بیٹے کو سرکاری دلوانے کے لیے، وزارتِ داخلہ کے نائب قاصد کی خودکشی

اسلام آباد میں بیٹےکو سرکاری نوکری دلانے کیلئے باپ نے خودکشی کرلی،وزارت داخلہ میں اقبال نامی نائب قاصد کوایڈمن افسر مشورہ دیا تھا کہ باپ مر جائےتو بیٹے کو نوکری ملتی ہے۔

اقبال اپنے بیٹے کے ہمراہ نوکری دلانے ساتھ لےکر گیا تھا ،اس نے استدا کی میںریٹائرمنٹ کے قریب ہوں،سرکاری کوارٹر چھن جائے گا، کمانے والا کوئی نہیں، بیٹا بےروزگار ہےلیکن ایڈمن افسر نے بتایا کہ دوران ملازمت باپ مر جائےتو بیٹے کو نوکری ملتی ہے۔

نائب قاصد نے وزارت داخلہ کی چھت سے کود کر خود کشی کر لی، کیا اب بیٹے کو نوکری مل جائے گی اور سر پر چھت بچ جائے گی۔

ہیں تلخ بہت بندائے مزدور کے اوقات،یہ محض ایک جملہ نہیں، ایک تلخ حقیقت ہے۔

سفید پوشی، تنگ دستی، معاشرے کی سختیاں،غربت کی تلخیاں، زندگی کا سفر نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن بنا دیتی ہیںاور جب ڈر سر سے چھت چھن جانے کا ہو توزندگی کی لڑی ٹوٹنے لگتی ہے۔

ایسا ہی افسوسناک واقعہ آج اقتدار کے ایک بڑے ایوان میں پیش آیا جہاں ایک نائب قاصد نے خود کشی کر لی۔

وزارت داخلہ کے نائب قاصد اقبال کی ریٹائرمنٹ میں چند ماہ باقی تھے، پریشانی یہ تھی کہ سرکاری کوارٹر چھن جائے گا، سر کہاں چھپائیں گے،بیٹے کی نوکری نہیں، کما کر کون لائے گا۔

اس آس میں نائب قاصد آج اپنے بیٹے کو ساتھ دفترلے گیا کہ شاید اس کی فریاد کوئی سن لے، شاید اس کے بیٹے کو نوکری مل جائے، شاید اس کے سر کی چھت بچ جائے، مگر ایسا ممکن نہیں تھا۔

ایڈمن افیسر نے پریشان حال نائب قاصد کو جواب دیا کہ غریب کے لیے اس ملک کا قانون کہتا ہے کہ باپ سرکاری نوکری کے دوران مر جائے تو بیٹے کو نوکری ملے گی اور کوارٹر بھی،تو فیصلہ کرنا آسان ہو گیا۔

نائب قاصد اقبال نے اپنے بیٹے کو ایڈمن افیسر کے پاس چھوڑا، وزارت داخلہ کی بلند قامت چھت پر گیا اور کود گیا۔

خودکشی کرنے والے نائب قاصد اقبال کے بیٹے عمر نے ’جیونیوز‘ کو بتایا کہ والد صاحب اگلے سال ریٹائر ہونے والے تھے، ریٹائرمنٹ کے بعد کی کسمپرسی کی زندگی ہی پریشانی تھی۔

نائب قاصد کے ساتھی اہلکار امان اللہ نے ’جیونیوز‘ کو بتایا کہ اقبال بیماری کی وجہ سے چھٹیوں پر تھا،دفتر میں اسےکوئی مسئلہ نہیں تھا۔

نائب قاصد اقبال مر گیامگر کئی سوال چھوڑ گیا، انصاف کون کرے گا، جواب کون دے گا؟

بشکریہ جنگ اخبار

اپنا تبصرہ بھیجیں: