کراچی: ایکسپو سینٹر میں لگنے والے بچت بازار میں پہلے روز ہی شہریوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا سوشل میڈیا پر بچت بازار کی تعریف کے پل باندھے گئے اور عوام کو یقین دلایا گیا کہ رمضان اور عید سے متعلق خریداری پر 30 فیصد ڈسکاؤنٹ پر خریداری کرسکیں گے۔
شہریوں کی بڑی تعداد اہل خانہ کے ہمراہ روزے کی حالت میں دور دراز سے سفر کرکے ایکسپو سینٹر پہنچی تو وہاں تین میں سے صرف ایک ہال میں اشیاء خوردونوش کے چند اسٹالز ان کے منہ چڑارہے تھے جبکہ بچت بازار کے نام پر بلڈرز، بینکوں خدمات فراہم کرنے والوں الیکڑاک آلات بنانے والی کمپنیوں کی مصنوعات کی تشہیر کی جارہی تھی۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ اس وقت غریب اور متوسطہ طبقہ کا سب سے بڑا مسئلہ سستی خوراک ہے اور وہ بچت بازار میں اشیاء خوردونوش کی تلاش میں آئے لیکن بچت بازار میں برائے نام اشیاء موجود ہیں پھل کے نام پر تربوز خربوزہ جبکہ سبزیوں کے نام پر صرف آلو پیاز ٹماٹر فروخت ہورہے ہیں برانڈڈ کمپنی آٹا بازار سے مہنگے داموں پر فروخت کررہی ہے تیل کمپنیاں بھی بازار کے نرخ پر ہی تیل فروخت کررہی ہیں۔
شہریوں نے کہا کہ دور دراز سے پیٹرول خرچ کرکے آئے وقت الگ ضائع ہوا اور پیٹرول کا خرچ بھی برداشت کرنا پڑا۔
شہریوں نے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے سامنے بھی بچت بازار میں گراں فروشی کی شکایات پیش کیں جس پر گورنر سندھ نے یقین دلایا کہ گران فروشی اور منافع خوری کرنے والی کمپنیوں کے اسٹال بند کردیں گے کیونکہ یہ بچت بازار منافع کے لیے نہیں لگایا گیا اور اسٹالز کی فیس میں بھی بھرپور رعایت دی گئی ہے۔
ایکسپو بچت بازار میں شہریوں کو مایوسی کا سامنا
