کپتان‘ رات کی تاریکی اور تسبیح، تحریر عمیر دبیر

یہ اُس وقت کی بات ہے جب 1992 میں پاکستانی ٹیم آسٹریلوی سرزمین پر ورلڈکپ کھیل رہی تھی، پہلے راؤنڈ میں اچھی کارکردگی نہ ہونے کے باوجود بھی شاہینوں کو غیبی مدد ملی اور ہم اگلے راؤنڈ میں پہنچے۔

رمضان کے مہینے میں ہونے والے ورلڈکپ میں پوری قوم کا جذبہ ایمانی حدوں کو چھو رہا تھا یہی وجہ ہے کہ کروڑوں لوگ افطار پر بھوکے پیٹ بیٹھ ہونے کے باوجود مغفرت اور رزق میں برکت کے ساتھ ورلڈ کپ میں فتح کی دعا کرتے تھے۔

دعاؤں کی مقبولیت کا اندازہ اُس وقت ہوا کہ جب سیمی فائنل سے ٹیم نے فائنل تک رسائی حاصل کی پھر بالآخر وہ دن بھی آہی گیا کہ پاکستانی ٹیم بڑے معرکے کے لیے میدان میں اتری، مصلحوں پر بیٹھے روزے داروں کی دعائیں کیسے رد ہوتیں ؟ ٹوٹے الفاظ کے ساتھ بچوں کی دعائیں کیوں قبول نہ ہوتیں ؟ خیر اللہ کے فضل سے ہم بانوے کا فائنل جیت گئے۔

بس یوں سمجھیں وہ فائنل کی فتح کرکٹ کی جیت نہیں بلکہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کی فتح تھی، اس ورلڈ کپ کے بعد ٹیم کے کھلاڑی وطن واپس آئے کچھ نے کرکٹ کو جاری رکھا اور کچھ ادھر اُدھر نکل گئے۔

ادھر اُدھر نکلنے والوں میں کپتان بھی شامل تھے جنہوں نے 1994 میں پہلا کینسر کا اسپتال کھونے کا اعلان کیا اور اس فلاحی اسپتال میں مفت علاج کا اعلان بھی کیا، ابھی دو سال ہی گزرے تھے کہ خان صاحب نے سیاسی جماعت بنانے کا بھی اعلان کردیا اور اس میں اُن کو جنرل حمید گل نے مکمل مدد فراہم کی۔

عبدالستار ایدھی نے بی بی سی اردو اور ایکسپریس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں جنرل حمید گل، عمران خان اور چار افراد نے آکرتحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دی اور رضامند نہ ہونے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں جس کے باعث وہ پاکستان سے برطانیہ منتقل ہوئے۔

کپتان نے ابتدائی سالوں صرف ایک نشست کے ساتھ سیاست کی، واضح رہے یہ وہ دور تھا کہ جب کوئی بھی جمہوری حکومت اپنی مقررہ مدت پوری نہ کرسکی تھی، مفاہمت کے بادشاہ نے سربراہی کا بیڑہ اٹھایا تو سب کو ایسےساتھ لے کر چلے کہ مقررہ مدت پوری کی اور آئینی طور پر اگلی حکومت کے انتخابات بھی دیکھنے میں آئے۔

ایک جمہوری حکومت کی مدت پوری ہونے پر تشویش شروع ہوئی کیونکہ آصف علی زرداری کو مسٹر 10 پرسن کا لقب دیا گیا، میڈیا نے چیخ چیخ کر ثبوت پیش کیے تاہم کوئی حکومت کو ٹس سے مس نہ کرپایا، اب وقت تھا کہ کسی تیسری نئی قوت کو سامنے لایا جائے، رات کی تاریکی میں ہونے والے اس فیصلے کے بعد کپتان نے مخالفین کی وکٹیں لینی شروع کردیں۔

وزیرخارجہ اور بھٹو کا جیالا شاہ محمود قریشی کپتان کو پیارا ہوگیا اور سلسلہ چلتے چلتے اب یہاں تک پہنچ گیا کہ اگر کسی رہنماء پر کرپشن یا کوئی مبینہ الزام عائد ہوتا ہے تو وہ تحریک انصاف کی جانب پیاسے کوے کی طرح دیکھنے لگتا ہے اور کپتان بھی اُسے ماں کی طرح بانہوں میں لے کر دلاسے دیتے ہیں۔

دوسری جمہوری حکومت نے جیسے تیسے سازشوں اور اپنی حرکتوں کا بویا کاٹتے ہوئے نہ صرف مسائل کا سامنا کیا بلکہ نہایت ہی کٹھن دور گزارا، یکے بعد دیگرے دھرنے، مظاہرے، ڈان لیکس، سعودی عرب تعیناتی، پاناما وغیر جیسے معاملات سامنے آتے گئے۔

اب حکومت کی مقررہ مدت ختم ہونے کاوقت قریب ہے تو کپتان نے 92 ورلڈکپ دیکھنے والے شائقین کی طرح مصلحے پر بیٹھ کر تسبیح گھمانی شروع کردی کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید کھیل کے میدان کی طرح انہیں سیاسی میدان میں بھی فتح ملے مگر افسوس کپتان کے ساتھ اچھے کھلاڑی موجود نہیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: