Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
گداگری باقاعدہ ایک پیشہ ۔.. تحریر: ماریہ اسرار | زرائع نیوز

گداگری باقاعدہ ایک پیشہ ۔.. تحریر: ماریہ اسرار

حدیثِ نبوی ہیکہ نیچے والے ہاتھ سے اوپر والا ہاتھ بہتر ہے، یعنی مانگنے والے سے دینے والا اچھا ہے، ہجبکہ موجودہ دور میں یہ ایک پیشے کی حیثیت اختیار کر گئی ہےعجیب عجیب حرکات، واسطوں سے عوام کو لوٹنے کی کو شش کی جاتی ہےگداگروں اور فقیروں نے لوگوں کا جینا دشوار کردیا ہے۔ ان گداگروں میں عموماً چھوٹے بچے ہوتے ہیں ان میں سے بعض بچے بڑے ہوکر جرائم پیشہ بن جاتے ہیں اور چوری ڈاکہ اور بدامنی کے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد بچوں کی ہے جنہیں دیگر علاقوں سے اغوا کرکے لایا جاتا ہے جبکہ ایسے بچوں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے جو غربت کی وجہ سے بھیک مانگنے پرمجبور ہیں ہمارے ملک میں ہرگزرتے دن کیساتھ لوگ اس مکروہ فعل کیساتھ منسلک ہورہے ہیں.

اسلام نے معاشرے کے اپاہج، معذوراوربے روزگارافراد کی مالی معاونت اورگزربسر کیلئے زکوٰۃ وصدقات کاقانون وضع کیاہے،جس کا مقصد معاشرے کے مستحق افرادکی حتی الامکان مدد کرنا ہے تاکہ یہ لوگ بھی معاشرے کے دیگرافرادکی طرح زندگی گزارسکیں،مگرآج کل ہمارے معاشرے کے اکثر نوجوان جومحنت مزدوری کرنے کے قابل ہوتے ہیں ، اس معاشرتی کرب کا شکار نظر آتے ہیں اور مختلف جگہوں پربھیگ مانگتے نظر آتے ہیں۔ گداگر یا بھکاری ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں محنت کر کے کمانا مشکل لگتا ہے اور کام کو عار سمجھتے ہیں انہیں لوگوں سے مانگنا اور جھولی پھیلا کر کمانا آسان لگتا ہے.

آجکل کچھ مجبور اور غریب طبقہ بھی ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوچکا ہے کیونکہ مہنگائی کے اس طوفان میں زندگی گزارنا ،سفارش اور رشوت کے بغیر روزگار حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اس لیے حکومت کو غریب طبقہ کو ریلیف دینے کے لیے کوئی خاص حکمت عملی تشکیل دینی ہوگی ن بھکاریوں میں کچھ پیدائشی معذور بھی ہوتے ہیں جو اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی بجائے لوگوں کے آگے جھولی پھیلانا آسان سمجھتے ہیں ان میں سے کچھ حادثات کی وجہ سے بھی اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ انہیں کوئی راہ سجھائی نہیں دیتا.

یہ افراد کے اندر غیرت و حمیت کو ختم کر دیتی ہے۔ محنت اور کام کرنے کی صلاحیت برباد کر دیتی ہے، قوم کی ذہنی صلاحیتوں کو یکسر موقوف کردیتی ہے، قوام اور افراد میں سستی، سہل پسندی اور دولت کی ہوس بڑھ جاتی ہے۔

اخلاقی اور نفسیاتی جرائم عام ہو جاتے ہیں

انسان گھٹیا اور ذلیل عادات کا غلام ہو جاتا ہے۔ انسانی رشتے اور اخلاقی اقدار پامال ہو جاتے ہیں۔ انسان انسان کا دست نگر ہو جاتا ہے، اجتماعی طور پر انسان اور معاشرہ غیروں کا محتاج ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر عزت و غیرت ختم ہو جاتی ہے۔انسان خالق حقیقی کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا سہارا اور رازق سمجھ بیٹھتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ جن لوگوں نے گداگری کو بطور پیشہ اپنایا ہے۔ ان میں اکثریت دو تین سال کے بچوں سے لیکر 70/80 سال عمر کے مردوزن شامل ہیں۔ بعض بد کردار نوجوان عورتوں نے اسے فحاشی کے لائسنس کے طور پر اپنا رکھا ہے۔ بھیک مانگنے کی آڑ میں مردوں کو دعوت گناہ دی جاتی ہے۔پیشہ ور گداگروں نے عوام کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ بس اسٹینڈز، ریلوے اسٹیشن، پارکوں، مساجد، ہوٹلوں اور پبلک مقامات پر بھکاری مانگنے کی بجائے چھیننے کے موڈ میں ہوتے ہیں۔ گداگروں کی ایک قسم نے مساجد، مدرسوں اور خیراتی اداروں کے نام پر چندہ رسیدیں چھپوا رکھی ہیں اور مساجد کے نام پر گلیوں بازاروں میں دھڑے سے مانگا جارہا ہے اور ایسی مساجد اور مدرسے عرصے سے مکمل نہیں ہو سکے۔

کراچی میں موسم، مذہبی تہوار اور قدرتی آفات کے تناظر میں بھکاریوں کی تعداد بڑھتی گھٹتی رہتی ہے سرد موسم، رمضان المبارک، عیدالفطر اور عیدالاضحی پر خانہ بدوش گداگر شہر کا رخ کرتے ہیں ان میں خاص طور پر باگڑی خانہ بدوش خاندان شاہ رسول کالونی، ابراہیم حیدری، ریڑھی گوٹھ ، اورنگی ٹاؤن، اتحاد ٹاؤن، چنیسر گوٹھ، کالا پل، نیلم کالونی، مچھر کالونی، بلاول گوٹھ، سرجانی ٹاؤن اور ضیاء الحق ٹاؤن میں رہائش پذیر ہیں۔

گداگری ایک ایسا پیشہ سمجھا جاتا ہے جس میں بغیر کسی سرمایہ، بغیر کسی محنت اور خسارہ کے خدشہ کے بغیر معقول رقم اکٹھی کر لی جاتی ہے اور دیہاڑی دار مزدوروں کی طرح کام نہ ملنے یا موسم کی خرابی بھی اس کام پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ بڑے شہروں میں تو یہ کام باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا جاتا ہے اور ٹھیکدار مختلف بھکاریوں کو علاقاجات الاٹ کرتے ہیں اور ان سے باقاعدہ حصہ وصول کیا جاتا ہے یہ لعنت ملکی معیشت کو لے ڈوبے گی۔داگری کے خاتمے کیلئے کئی بار منصوبے بنائے گئے مگر اس کے باوجود گداگری کے اضافے نے عوام کو پریشان کردیا ہے۔ گداگری کے اسباب میں مہنگائی اور بیروزگاری جیسے عوامل شامل ہیں۔ بیروزگاری سے تنگ نوجوان دل برداشتہ ہو کر منشیات کا استعمال شروع کر دیتے ہیں اور اپنے خرچ کی رقم بھیک مانگ کر پوری کرتے ہیں اسلام میں بھی گداگری کی اجازت نہیں ہے اور اسکی سختی سے ممانعت کی گئی ہے افسوس کہ حکومت ان چھوٹے چھوٹے مسائل پر غور نہیں کرتیحکومت وقت مستحق افراد کے لیے وظیفہ مقرر کرے مستحق صحت مند لوگوں کو روزگار فراہم کرے جبکہ پیشہ ور بھکاریوں اور ان کے ٹھیکداروں کو گرفتار کریں۔

بھکاریوں کو کوئی ہنر سکھائیں اور انہیں محنت و مشقت کرنے کی عادت ڈالی جائے تاکہ حلال طریقے سے کما کر اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے۔ ا یسے لوگ ان لوگوں کی حق تلفی کرتے ہیں جنہیں حقیقی طور پر مدد کی ضرورت ہوتی ہے ،جو اس قابل ہوتے ہیں کہ ان کی مدد کی جائے ۔بعض افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی مفلسی کا ذکر کسی سے نہیں کرتے ۔ ایسے حالات میں ہمارا فرض ہے کہ ان لوگوں کی مدد کی جائےزمہ دار اداروں کو بھی یہ چاہئیے کہ وہ اس لعنت سے ملک و قوم کو نجات دلانے کے لیئے خصوصی اقدامات کریں۔ اور ایسے گداگر جو کہ جعلی طور پر معزور بن کر ملک و قوم کو لوٹ رہے ہیں میری نظر میں وہ جرائم پیشہ ہیں اور ایک جرم کر رہے ہیں انکے خلاف باقاعدہ اور بڑے پیمانے پر آپریشن کریں۔ عوام کو اس جہاد میں خود حصہ لینا ہوگا تب ہی یہ لعنت اپنے انجام کو پہنچے گی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مفہوم: ’’یہ بات کہ تم اپنی پیٹھ پر لکڑی کے گٹھے کاٹ کر لاؤ اور اسے فروخت کرو اس سے بہتر ہے کہ تم لوگوں کے سامنے دست ِسوال پھیلاؤ، وہ چاہیں تو دے دیں، چاہے تو نہیں دیں۔ ‘