سیاسی جماعتیں مردم شماری سے خوفزدہ

مردم شماری کسی بھی ملک کی آبادی و وسائل کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے . مردم شماری کے ذریعے کسی بھی ملک کی آبادی ‘رقبہ اور وسائل کے تناسب کا اندازہ ہوتا ہے . اس کے ذریعے آبادیاتی اور سماجی خصوصیات کا اندازہ لگا یا جاتا ہے.اسکے ساتھ ساتھ رہائشی تناسب اور معاشی رحجان کا بھی اندازہ لگتا ہے‘ملکی وسائل کے صحیح تناسب کے ساتھ تقسیم کے لئے لازم ہے کہ آپ کو تمام تر معلومات حاصل ہوں جن کے حصول کا ایک بہتر ذریعہ مردم شماری ہے۔

 پاکستان کے قیام کے بعد بالترتیب1998,1981,1972,1961,1951 میں مردم شماری کروائی گئی ‘1999میں پرویز مشرف کے اقتدار سنبھال لینے کے بعد ملک میں کسی حد تک استحکام تو آگیا مگردیگر سیاسی و معاشی معاملات میں الجھ کر وقتی طور پر مردم شماری کو پس پشت ڈال دیا گیا جو کہ2008 میں کروائی جانی تھی۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخرسیاسی قوتوں کو مردم شماری سے ایسے کیا خطرات لاحق ہیں اور وہ مردم شماری سے کیوں گریزاں ہیں تو اسکے جواب میں سب سے پہلے ہمیں پاکستان کے وسائل اور ان کی تقسیم کے متعلق جاننا ضروری ہے.پاکستان ایک ایسا ملک جو بیک وقت خوش قسمت اور بدقسمت دونوں فہرست میں موجود ہے .قدرتی وسائل سے مالامال ایک زرعی ملک جہاں سمندر ‘دریا‘ پہاڑ‘گلیشیر‘میدان‘معدنی وسائل ‘تیل ‘گیس‘کوئلہ‘نیز ہر طرح کے خرانوں کے انبار موجود ہیں جو اسکی خوش قسمتی مگر بد انتظامی‘ بدنیتی اور بد عملی کے لحاظ سے بے حال‘جہاں ایک طرف لوگ سیلاب کے ہاتھوں ہلاک ہوتے ہیں اور دوسری طرف خشک سالی و قحط سالی کے ہاتھوں۔

ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی بلواسطہ یا بلاواسطہ زراعت کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں نے کبھی اس شعبے کی ترقی اور عوام کو فلاح پہنچانے کی کوشش بھی نہیں کی کیونکہ وہ خود اس طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے اور ملک کی ترقی اور اس کے ثمرات جب نچلے درجے کے عوام تک پہنچ جائے اور وہ بہتر زندگی گذارنے لگتے تو انکی غلامی پر ہرگز تیار نہ ہوتے.مردم شماری کی صورت میں آبادی کے حساب سے وسائل کا درست اور منصفانہ تقسیم کا عمل ان کے عزائم کی راہ میں رکاو ٹ ہو تا لہذا اس سے اجتناب برتنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی رہی۔

سندھ پاکستان کا ایک اہم صوبہ ہے وسائل کے لحاظ سے دیہی و شہری سندھ دونوں ہی مالا مال ہیں‘مگر ہر دورحکومت میں سندھ بالخصوص شہری سندھ کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا رہا ہے آبادی کے لحاظ سے کراچی پاکستان کا سب سے بڑا اور دنیا کا آٹھواں بڑا شہر ہے جو نہ صرف ایک میٹروپولیٹن سٹی ہے بلکہ اقتصادی اور دفاعی لحاظ سے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔

پاکستان کی کل آمدنی کا تقریباً 75٪ حصہ کراچی سے حاصل ہوتا ہے مگر جواب میں کراچی کو بمشکل5%ملتا ہے اتنے بڑے شہر کے ساتھ لاپرواہی کا ایک ثبوت آئے دنوں آگ لگنے کے واقعات میں ہی مل جاتا ہے جہاںآگ بجھانے کے لیے فائر ٹینڈرز کی عدم موجودگی‘گاڑیوں میں ڈیزل نہ ہونا‘ہائیڈرینٹ میں پانی دستیاب نہ ہونا اس شہر کے ساتھ کھلی زیادتی ہے. کسی بھی حادثے یا قدرتی آفات کی صورت میں نمٹنے کے لئے کوئی انتظام نہیں، حتیٰ کہ باران رحمت کو زحمت بنانے والے گٹر اور ٹوٹی سڑکیں اور کچرے کے ڈھیر میں اس شہر کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا ثبوت ہے۔

شہر کے انتظام کو اچھی طرح چلانے کے لئے مقامی حکومت کا ہونا بہت ضروری ہے مگر اس شہر کے وسائل پر قبضہ کرنے کی خاطرہمیشہ بلدیاتی انتخابات سے گریز کیا گیا ہے بنیادی شہری سہولیات کی عدم فراہمی آمرانہ دور کی یاد دلادیتی ہے جب شہری حکومت نے صحیح معنوں میں شہر کو بین الاقوامی شہر کی شکل دے دی تھی.

ابھی بھی عدالتی فیصلے سے مجبور ہو کر بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا گیا مگر بلدیاتی نمائندے ابھی تک وسائل اور اختیارات کی عدم دستیابی کا رونا روتے نظر آرہے ہیں. اسمبلیوں میں نمائندگی کے لیے آبادی کے لحاظ سے حصہ دیا جاتا ہے بدقسمتی سے صوبائی اسمبلی میں بھی کراچی کوآبادی کے لحاظ سے مناسب نمائندگی حاصل نہیں ہے۔

مردم شماری کے ذریعے اگر کراچی کی آبادی کا درست اندازہ لگا لیا جائے تو کراچی اور شہری سندھ کو سندھ اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ہوجائے گی اور یوں سندھ کے وسائل پر قابض سندھ کے جاگیردار‘ وڈیرہ طبقے کو اپنی عیاشیوں سے ہاتھ دھونے پڑ جائیں گے۔

یہی وجوہات اور خدشات ہیں کہ جن کے پیش نظر مردم شماری سے اجتناب برتا جارہا ہے، مگر آنکھ چرانے سے حقیقت تبدیل نہیں ہو گی جلد یا بدیر مردم شماری کرواکر آپ کو ملک کے عوام کو ان کے جائز حقوق دینا ہی ہوگا۔

نوٹ : عدالتی فیصلے کے بعد مردم شماری کروائی جارہی ہے مگر مجھے اندیشہ ہے کہ کراچی و شہری سندھ کے عوام کو ریلیف نہیں ملے گا کیونکہ اس سے کئی چولہے ٹھنڈے ہونے کا اندیشہ ہے اور کون اپنے پیٹ پر لات مارتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں