عامر لیاقت صاحب تبرہ نہیں چلے گا

موسموں کے حساب سے میڈیا چینل اور اپنے نظریات تبدیل کرنے والے پاکستان کے لمبر ون انٹرٹینمنٹ (صحافی) اینکر نے ہر دور میں کسی نہ کسی چہرے کو ایکسپوز کیا بلکہ یوں کہا جائے کہ اُس کو کہیں کا تو چھوڑا تو یہ غلط نہ ہوگا۔

عامرلیاقت صاحب نے گزشتہ سال اپنے انعام گھر اور رمضان ٹرانسمیشن جیسے پروگراموں میں کئی لوگوں کے چہرے بے نقاب کیے اور اپنے دلائل سے ثابت کیا کہ جب کوئی حق کی بات کرتا ہے تو اُس کے خلاف انتقامی کارروائیاں عمل میں لائی جاتی ہیں۔

تحریک انصاف کے چیئرمین ہوں یا اُن کی قیادت عامر لیاقت کی تیزو طرار گفتگو سے بچ نہ سکی بلکہ عامر بھائی نے تو سابق گورنر کو بھی ایسے نشانے پر رکھا کہ انہوں نے بھی مجبور ہو کر سی پی ایل سی چیف کو عامر بھائی کی فینسی نمبر پلیٹ کی گاڑی چھوڑنے کے احکامات جاری کیے۔

دنیا کا نمبر ون بلکہ یوں کہا جائے کہ تمام سیاروں اور کائنات میں بسنے والے جانداروں و بے جانوں کے پسندیدہ پروگرام ایسا نہیں چلے گا کے اینکر نے نام نہاد پاکستانی صحافی طارق فتح کے اصلی چہرے کو بے نقاب کیا اور ایسی ایسی باتیں سامنے لائے جس کے بعد سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔

اب عامر بھائی فیس بک پر تنازعات اور انتشار پھیلانے والے پیچ “بھینسا” اور اُس کو چلانے والے لوگوں کو بے نقاب کررہے ہیں جو ایک اچھی کاوش ہے، یار رہے کچھ بلاگرز مبینہ طور پر گمشدہ ہیں جن کی گمشدگی کے بارے میں اہل خانہ کا موقف ہے کہ انہیں حساس اداروں نے تحویل میں لے رکھا ہے تاہم وجہ ابھی تک سامنے نہیں آئی۔

اسی دوران عامر بھائی نے اپنے آم استعمال کرتے ہوئے غالب فلم لگائی اور انہیں معلوم ہوا کہ بھینسا نامی پیچ مبینہ طور پر اسلام آباد یونیورسٹی کے پروفیسر سلمان حیدر اور دیگر وقاص گورایہ، ثمر عباس وغیرہ کے توہین مذہب و رسالت کی پوسٹنگ کررہے تھے، ہفتے 21 تاریخ کے پروگرام میں عامر بھائی نے انکشاف کیا کہ یہ تمام لوگ غائب نہیں ہیں بلکہ بھارت میں چھپ کر بیٹھ گئے ہیں جس کا مقصد پاکستان کی خفیہ ایجنسی کو بدنام کررہے ہیں۔

قبل ازیں عامر لیاقت بھائی صاحب نے آنٹی شمیم کے بیٹے کے نام سے مشہور جبران ناصر سمیت تمام بلاگرز کی گمشدگیوں کے لیے ٹوئٹس کرنے والے لوگوں کو توہین رسالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے قوم کو جگانے کی کوشش کی، جس پر جبران ناصر نے پیمرا سے ضابطہ اخلاق کی کارروائی کا مطالبہ کیا اور اہل خانہ کی جانب سے اسلام آباد پریس کلب میں کی جانے والی میڈیا بریفننگ کی ویڈیوز بھی ابصار عالم صاحب کو بھیج دیں جس میں بھینسا کے خلاف اہل خانہ نے بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی روز شام میں عامر بھائی ٹی وی کی اسکرین پر جلوہ گر ہوئے اور جبران ناصر سمیت سب کو بتا دیا کہ ایسے نہیں چلے گا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ ہمارا روزِ اول سے یہی مطالبہ رہا کہ بلاگرز کو گمشدہ کرنا آئین اور قانون کے تحت نہیں مگر جبران ناصر کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کا چہرہ ایسے لال ہوا جیسے کسی ذاکر کا ہوتا ہے۔

اگلے ہی لمحے انہوں نے گہرا سانس لیتے ہوئے تبرہ کا عمل خوبصورتی سے ادا کیا اور تمام پوسٹیں اپنی ٹیلی ویژن اسکرین پر دکھاتے ہوئے “توبہ توبہ، کیسے پڑھوں، نہیں پڑھ سکتا” کہتے کہتے چیخ چیخ کر پڑھ ڈالی اور دعویٰ کیا کہ سارے بلاگرز بھارت میں بیٹھ کر دوبارہ ایسی پوسٹیں کرنے لگے ہیں۔

اب عامر بھائی سے بس اتنا سا سوال ہے کہ کیا اس طرح کی پوسٹیں آپ پیمرا میں بھیجی جانے والی درخواست سے پہلے نہیں دکھا سکتے تھے؟ یا پھر یہ بات پہلے کیوں نہیں بتا سکتے تھے کہ تمام بلاگرز بھارت میں ہیں؟ پلیز اپنی ریٹنگ کے چکر میں لوگوں کے مذہبی جذبات سے نہ کھیلے کیونکہ اس سے پہلے گستاخانہ خاکے شائع ہوچکے ہیں مگر کسی بھی ملکی میڈیا چینل یا اخبارات نے وہ شائع نہیں کیے۔

اب نے صرف اپنی ریٹنگ کے لیے ہماری دنیا کی نمبر ون ایجنسی پر الزام بھی عائد کردیا کہ وہ لوگ بھارت گئے، جبکہ بحیثیت پاکستانی میرا ماننا ہے کہ ہمارا انٹیلی جنس نظام اتنا مربوظ ہو مضبوط ہے کہ آئی ایس آئی دشمن ہر بات کی خبر اور  ہرچال پر  نظر رکھتے ہوئے بھر پور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

بات رہی کہ لوگ اتنے جذباتی انداز میں پروگرام کے باوجود ابھی تک کھڑے نہیں ہوئے سڑکوں پر نہیں آئے ، آپ کی باتوں کو سنجیدہ نہیں لیا یا پھر کوئی اور بات ہے، لوگوں کو یاد ہے کہ آپ نے کس طرح سیاسی نظریات بدلے، کس طرح بیانات بدلے اور کس طرح اپنے پروگرام بدلے تو سب کو ڈر ہے کہ کل کو کہیں آپ بلاگرز کی بازیابی کے بعد اُن کے ساتھ پروگرام میں بیٹھ کر اچھے ماحول میں یہ کہتے نہ دکھائی دیں کہ “ایسے نہیں چلے گا”۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

7 تبصرے “عامر لیاقت صاحب تبرہ نہیں چلے گا

  1. Hitler, learning of the betrayal of his most trusted and loyal disciple was enraged, stripping Himmler of all of his offices cialis 20 mg Very common 10 or more Flushing up to 14

  2. 5 where j is the sample number, n is the number of dissolution sample times, t j AV is the time at the midpoint between t and t 1 calculated with t t 1 2 , and О”Q j is the additional amount of drug dissolved between t and t 1 where to buy cialis cheap

اپنا تبصرہ بھیجیں