قرار داد پاکستان سے پہلے مسلمانوں کے حق میں جدوجہد، تحریر: سید محبوب احمد چشتی

جب تک کوئی قوم آزادی کے لیئے قربانی کی اہمیت سے واقف نہیں وہ قوم آزادی حاصل نہیں کرسکتی ، ہم نے بھی آزادی کیلئے اتنی بڑی قیمت چکائی ہے کہ دنیا میں کہیں اسکی مثال نہیں ملتی مسلمانوں نے برصغیر ہندوپاک پر ایک ہزار سال سے زیادہ حکومت کی مگر وہ انگریزوں کی غلامی سے نہ بچ سکے انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے کبھی انہیں پلاسی کے میدانوں میں اپنے جوہر دکھانے پڑے اور کسی سرنگا پٹم کے کارزار میں کسی میرٹھہ چھاؤنی میں اور کبھی لاہور ودہلی کے لال قلعے میں تاریخ انکے کارناموں پر فخر کرتی رہے گی۔

قراردار پاکستان ہرباریہ احساس دے کر خوشی کے ساتھ غم منانے پر بھی مجبور کردیتی ہے کہ خوشی اس بات کی ہوتی ہے آج ہم ایک آزاد قوم ہیں اور غم اس بات کا ہے (70)سال گزر جانے کے بعد بھی ہم ایک قوم نہیں بن سکے اور جو بننا چاہتے ان کو ابھی تک مہاجر کہا جارہا ہے بات یہاں مہاجروں کو تسلیم کرنے کے تناظر میں لکھی گئی ہے جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے بیرونی او راندرونی سازشوں نے اسکو کھوکھلاکرنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہیں۔

قائد اعظم محمدعلی جناح پر قاتلانہ حملہ ، لیاقت علی خان کی شہادت ، سقوط ڈھاکہ ، بے نظیر بھٹو کی شہادت ،جنرل ضیاءکی شہاد ت ، کراچی میں ملک کی تاریخ کا بدترین ریاستی آپریشن ، ماورائے عدالت قتل ، ایسا کونسا سانحہ نہیں ہے جوہمیں (67 سالوں) میں دیکھنے کو نہیں ملا۔ آزادی ایک فرد کی ہویا ایک کی ہودنیا بھر کے انسانوں کے لیے موجب تشکر ہے۔

سرکاردوعالم ﷺ فرماتے ہیں کہ ’آزادی ایک نعمت ورحمت ہے ، آزادی شخصی ہویا قومی اسکے لیئے قربانی دینی پڑتی ہے‘ بعد ازیں مسلمانوں کو خداوند کریم نے سرسید احمد خان، وقار الملک محسن الملک مولانا محمد علی جوہر، علامہ اقبال ، اور قائد اعظم محمد علی جناح جیسے عظیم رہنما فرمائے جنہوں نے انگریزوں اور ہندوؤں کی نہ صرف ہر چال کو مات کیا بلکہ ہر محاذ پر ان کا مقابلہ کیا۔

ہندوؤں کی بے رخی اور نظریاتی فرق نے مسلمانوں کو سوچنے پر مجبورکیا اور مظالم سے متاثرہ مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ ہمارا مذہب ہمیں ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام کا روشن راستہ دکھارہا ہے اس ناگفتہ بہ حالت میں ایک درویش ہمدرد ملت اٹھا جس نے اپنی مایوس پس ماندہ قوم کو امید محنت اور ترقی کا وہ زندگی بخش پیغام دیا جس سے قوم کی آنکھیں کھل گئیں یہ مرد خدا سرسید احمد خان تھے۔

سرسید احمد خان نے قدامت پسند مسلمانوں کونئے نئے زمانے کی ضروریات سے آگاہ کیا اپنی مذہبی تصانیف اور رسالہ تہذیب الاخلاق کے اجراء سے انہوں نے ثابت کر دکھایا کہ اسلام عقل کے اصولوں پر مبنی ہے ، سرسیداحمد خان نے لاہور میں انجمن حمایت الاسلام کا ادارہ قائم کیا 1886 ءسرسید احمد خان نے آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کی بنیادڈالی جس کے اجلاس ہرسال مختلف مقام پر ہوئے اور مسلمانوں میں ایک نئی زندگی پیداہوئی۔

سرسید احمد خان نے اپنی مشہور تصنیف ”اسباب بغاوت ہند“میں لکھا ہے کہ ہندوستانیوں کو ملک کی سیاسی کونسلوں میں شامل نہ کیاگیا آپ نے مسلمانوں میں ایک سیاسی تعلیمی شعور پیدا کیا1898 ءمیں سرسید احمد خان کا انتقال ہوگیا لیکن جوبیداری وہ مسلمانوں میں پیداکرگئے تھے ، اس بیداری کانام تھا ایک آزاد مسلم ریاست کاقیام سرسید احمد خان کے اس سفر کو مولانا الطاف حسین حالی، نذیر احمد، ذکاءاللہ، شبلی صاحب نے جاری رکھا۔

علامہ اقبال نے اپنا خاص اسلامی فلسفہ قوم کے سامنے پیش کیا ، انہوں چار چیزوں پر زور دیا توحید، رسول اللہ سے محبت اور انکی مکمل تقلید،قرآم کا مطالعہ اسکی تعلیمات کی پیروی ، رجائیت یعنی مایوسی اور غم پسندی کو ترک کرکے امید ہمت اور جرا ¿ت کی راہ اختیار کرنا، اقبال نے سچے مومن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ

ہرلخطہ ہے مومن کی نئی شان نئی

 آن گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان

قہاری وغفاری وقدوسی و جبروت

یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

دسمبر 1906 ءمیں مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا اور 1909 ءکی اصلاحات میں مسلمانوں نے جداگانہ انتخابات کا اہم حق حاصل کرلیا، تقسیم بنگال کی تقسیم 1911ءاور جنگ بلقان وطرابلس 1912ء سے جب مسلمانوں کو یہ یقین ہوگیا کہ ان کے قومی اور بین الااقومی حقوق حکومت برطانیہ کے ہاتھوں میں محفوظ نہیں رہ سکتے تو انہوں نے ہندوستان کیلئے 1913 ءمیں ”سیلف گورنمنٹ “ کا مطالبہ کیا۔

کانگریس اور مسلم لیگ میں ”مثیاق لکھنو“ کا مشہور معاہدہ ہوا جس کی وجہ برطانیہ 20 اگست 1917 ءکویہ اعلان کرنے پر مجبور ہوا کہ ہندوستان کو بتدریح خوداختیار حکومت دی جائے1937ءمیں جب کانگریس برسراقتدار آئی اور اس نے مسلمانوں کی قومی ہستی کو ختم کرنا چاہا تو سوال یہ پیداہوا کہ کون ہوگا جو مسلمانوں کو اس نازک صورتحال سے باہر نکالے گا؟ کون انکو آزادی کا خوبصورت احساس دلائے گا؟

مسلم لیگ کی قیادت جن ہاتھوں میں آئی وہ شخصیت قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ قائد اعظم کی شاندار شخصیت نے کانگریس کو یہ باورکرایا کہ ہندو اور مسلمان دوعلیٰحدہ قوت ہیں مسلم قوم کا یہی نظریہ حیات تحریک پاکستان کی اساس بنا انہوں نے یہ واضع کردیا کہ مسلمان اپنی انفرادی واجتماعی ہدایات ورہنمائی قرآن اور رسول ﷺ کی سنت سے حاصل کرتے ہیں۔

مارچ1947 ءمیں حکومت برطانیہ نے لارڈ ویول کو واپس بلالیا اور اسکی جگہ لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کو وائسرے بناکر بھیجا کانگریسی اور مسلم لیگی رہنماﺅں سے ملاقات کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچاکہ ملک کی تقسیم کے بغیر کوئی اور چارہ نہیں ہے ہندو ستان میں تحریک آزادی نے ایک طوفان کاروپ اختیار کرلیا اس جدوجہد آزادی میں تحریک پاکستان ایک شاعر نے ولولہ انگیزتاریخی نظم جس کے ایک شعر نے تاریخی حیثیت حاصل کرلی یہ تحریک پاکستان کے نامور شاعر ومقرر سید یاور حسین(کیف بنارسی) تھے (لے کے رہیں گے پاکستان بٹ کے رہے گا ہندوستان)

ہمیں پاکستان سے محبت ہے قائد اعظم محمد علی جناح سے عقیدت ہے اسکے مصور سے لگاﺅ ان مجاہدین کیلئے ہمارے پاس مغفرت کی دعائیں ہیں، لاکھوں قربانیوں کا ثمر ہے لہٰذا ہمیں اگر واقعی پاکستان سے محبت ہے اور اگر ہم اسکا تحفظ چاہتے ہیں تو ہمیں اسلامی اصولوں پر عمل پیراہوکر فطری وحدت اور قومی اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔

تعصب نے اس پیارے وطن کے بہت نقصان پہونچایا ہے وسیع القلبی نہ جانے کہاں چلی گئی ہے پاکستان کی تعمیروترقی میں اپنا کردار مفاداتی طرز فکرسے ہٹ کرادا کرنا ہوگا ناراض دلوں کو پیار سے تسخیر کرنا ہوگا جب جاکر ہمیں وہ پاکستان مل جائے گا جو بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیں باری تعالیٰ کی رضا کے طفیل دیاہے

 یہی ہماری آبرو ہے یہی ہمارے خوابوں کی تعبیرہے اور یہی پاکستان اسلام کا قلعہ بھی ہے، شدت پسندی کو اپنے ذہنوں سے نکال کر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہوگا۔

                                                            موج بڑھے یاآندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے

                                                             گھرکی خاطر سودکھ جھلیں گھرتو آخر اپنا ہے

اللہ تبارک تعالیٰ پیارے وطن پاکستان میں امن وسکون پید افرمائے اس پاک سرزمین کو سرسبزوشاداب اور اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔(آمین)


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: