جیسے عوام ، ویسے حکمران، ویسی ہی صحافت۔۔۔ تحریر ابوبکر

آزادی صحافت کا عالمی دن…

پاکستان میں صحافت کتنی آزاد ہے کتنی نہیں اس بات کو ہر طبقہ اپنی نظر، اپنی سوچ کے مطابق دیکھتا ہے۔ کسی کا خیال ہے پاکستان میں میڈیا کو حد سے زیادہ آزاد کر دیا گیا ہے اور کسی کے نزدیک پاکستان میں صحافت ایک پنجرے میں قید طوطے کی طرح ہے جسے جو بتایا جاتا ہے وہ ہی بولتا ہے۔ کسی کے خیال میں صحافت اب اتنی آزاد ہے کے کسی عالم سے اپنے اوپر لگائے گئے الزام کا ثبوت مانگ سکتی ہے اور کسے کے نزدیک یہ علماء کی توہین ہے۔ کسی کا ماننا ہے میڈیا کو اتنی آزادی ہونی چاہیئے جتنی چین اور روس میں حاصل ہے اور کسی کے خیال میں مغربی میڈیا کا ماڈل بہترین ہے۔

پاکستان میں اگرچہ صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان میں صحافیوں کے ساتھ حکومتی اور سیاسی جماعتوں کی سطح پر تشدد واقعات آمرانہ دور میں بھی رونما ہوتے رہے جبکہ جمہوری ادوار میں بھی ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے دنیا پاکستان کو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں ایک کہتی ہے۔ 2019 تک پاکستان میں 72 صحافیوں کے قتل رپورٹ کئے گئے۔ دھمکیاں، تشدد، لاپتہ ہوجانا وغیرہ تو معمولی بات ہے۔ میڈیا اداروں میں تنخواہوں کے مسئلے بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ کورونا وائرس کی صورتحال اور لاک ڈاؤن کے باوجود اپنے فرائض انجام دینے والے ملازمین کو شاید ہی کوئی اضافی سہولت دی گئی ہو۔

پاکستانی میڈیا کی آزادی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2 دن قبل ہی سویڈن میں قتل ہونے والے پاکستانی صحافی کی لاش برآمد ہوئی، مگر کسی صحافتی ادارے نے شاید اس کا زکر تک نہ کیا۔
آج سے ایک دن قبل ہی پی ٹی ایم کے ایک اہم رہنما عارف وزیر کا سرعام قتل ہوا مگر اپنے آپ کو صحافت کے چیمپیئن کہنے والے کسی ادارے میں جرات نہ ہی کوئی خبر لگانے کی۔

مثالیں بہت ہیں مگر فائدہ کوئی نہیں، کہا جاتا ہے جیسی عوام ہوتی ہے ویسے ہی حکمران ہوتے ہیں، مگر اب شاید یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جیسی عوام اور حکمران ہوتے ہیں ویسی ہی صحافت بھی ہوتی ہے۔
۔۔ابوبکر۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: