پاکستان میں عورت سیاست بے آواز، تحریر نازیہ علی

ہم ایک ایسے پڑھے لکھے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں عورت کی کوکھ سے پیدا ہونے کے باوجود ہم اسی عورت کو خود سے کم تر اور حقیر سمجھتے ہیں ۔گھر میں ماں ،بہن موجود ہونے کے باوجود آج کا پڑھا لکھا نوجوان طبقہ باہر بات بات پر ماں اور بہن کی گالی دینے کو فخر سمجھتا ہے۔ہمارے معاشرے میں بات خواتین پر گالیوں پر آکر ختم نہیں ہوتی بلکہ اسکا آغاز ماڈرن انداز اختیار کرتے ہوئے اب نعروں میں تبدیل ہو گیا۔عورت کیلئے تو گھر کی چار دیواری سے باہر نکل کر کسی بھی پیشے سے وابستہ ہونا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہوتا ہے مگر مجھے ترس آتا ہے ایسے ذہنی بیمار معاشرے پر جسکی ہر لڑائی اور نفرت کا آغاز ہی عورت کی گالی دے کے کیا جاتا ہے۔

ایسے ذہنی بیمار معاشرے میں کسی بھی عورت کا سیاست میں آنا اسکے لئے گالی،گندے نعرے اور کردار کشی ہوتا ہے۔کیا پاکستان میں عورت سیاست کامیاب ہو سکے گی؟کیا کبھی پاکستان میں کسی عورت سیاستدان کی تاریخ بغیر اسکی آواز روکے جانے کے علاوہ لکھی جائے گی؟ پاکستانی خاتون سیاستدانوں کے ناموں کی فہرست کا اگر آغاز کیا جائے تو بلاشبہ اس میں پہلا نام مادر ملت فاطمہ جناح کا آتا ہے مگر آج مختصر روشنی ہم محترمہ فاطمہ جناح،نصرت بھٹو،کلثوم نواز اور بے نظیر بھٹو کی سیاست پر ڈالینگے۔

تحریک پاکستان میں مادر ملت فاطمہ جناح کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔انھوں نے جدوجہد آزادی میں حصہ لینے کے لئے برصغیر کی مسلم خواتین کو بیدار کیا اور انہیں منظم کرکے ان سے ہراول دستے کاکام لیا۔ آپ ہی کی بدولت برصغیر کے گلی کوچوں میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی تحریک میں سرگرم ہوئیں۔ اسی پر اکتفاء نہیں بلکہ آپ نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی خدمت کی صورت، تحریک پاکستان میں عملی طور پر حصہ لے کر عظیم خدمات سر انجام دیں۔آپ نے دن رات قائداعظم کے آرام و سکون کا خیال رکھا،وہ سیاسی بصیرت میں اپنے بھائی قائداعظم کی حقیقی جانشین تھیں اپنی قربانیوں کی وجہ سے وہ قوم کی ماں کا لقب ’’مادر ملت‘‘ حاصل کر کے سرخرو ہوئیں۔

پاکستان کی دوسری خاتون سیاستدان نصرت بھٹو جو کہ ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ تھیں۔انہوں نے اپنے شوہر کے قید کے دنوں میں پارٹی کی قیادت سنبھالی اور ان کی رہائی کے لیے بھرپور سیاسی تحریک چلائی۔ وہ 1979ء سے 1984ء تک پارٹی کی چیئرپرسن رہیں جب کہ بعد کے دنوں میں وزیرِ اعظم بننے والی اپنی بیٹی بے نظیر بھٹو کی کابینہ میں وہ سینئر وزیر بھی رہیں۔ ان کا عہدہ نائب وزیرِ اعظم کے مساوی تھا۔پاکستان کی تیسری خاتون سیاستدان تین بار خاتونِ اول رہنے والی بیگم کلثوم نواز کے بارے میں تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ماضی کی طرح بیگم کلثوم نواز ایک مرتبہ پھر سیاست میں جدوجہد کے لیے تیار تھیں لیکن بیماری نے انہیں مہلت نہ دی۔

نواز شریف کی سیاست میں انہوں نے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا اور نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد احتجاجی سیاست کی۔اب بات کرتے ہیں پاکستان کی چوتھی خاتون سیاستدان بے نظیر بھٹو کی ۔بے نظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ پہلی بار آپ 1988ء میں پاکستان کی وزیر اعظم بنیں لیکن صرف 20 مہینوں کے بعد اس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے بدعنوانی کا الزام لگا کر اپنے خصوصی اختیارت سے اسمبلی کو برخاست کیا اور نئے الیکشن کروائے۔بے نظیر بھٹو کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی صاحبزادی اور سابق وزیر اعظم بے نظیربھٹو 21جون 1953ء میں سندھ کے مشہور سیاسی بھٹو خاندان میں پیدا ہوئیں۔

بے نظیر نے اپنے بھائی مرتضٰی بھٹو کے قتل اور اپنی حکومت کے ختم ہونے کے کچھ عرصہ بعد ہی جلا وطنی اختیار کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں دبئی میں قیام کیا۔ اسی دوران بے نظیر، نواز شریف اور دیگر پارٹیوں کے سربراہان کے ساتھ مل کر لندن میں اے آر ڈی کی بنیاد ڈالی۔ اور ملک میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف بھرپور مزاحمت کا اعلان کیا۔ ان کی جلاوطنی کے دوران ایک اہم پیش رفت اس وقت ہوئی۔ جب 14 مئی 2006ء میں لندن میں نواز شریف اور بے نظیر کے درمیان میثاقِ جمہوریت پر دستخط کر کے جمہوریت کو بحال کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ دوسری پیش قدمی اس وقت ہوئی جب 28 جولائی 2007ء کو ابوظہبی میں جنرل مشرف اور بے نظیر کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس کے بعد پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن تقریباً ساڑھے آٹھ سال کی جلاوطنی ختم کر کے 18 اکتوبر کو وطن واپس آئیں تو ان کا کراچی ائیرپورٹ پر کارکنان کی جانب سے استقبال کیا گیا۔

نازیہ علی کا قالم

کوئی شہید علی رضا عابدی کے بوڑھے باپ کی التجا اور درد سمجھے، تحریر نازیہ علی

بے نظیر کا کارواں شاہراہِ فیصل پر مزارِ قائد کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اچانک زور دار دھماکے ہوئے جس سے انسانی زندگیوں کا نقصان اور کئی لوگ زخمی ہوئے۔ بے نظیر کو بحفاظت بلاول ہاؤس پہنچا دیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن جب اپنے بچوں بلاول، بختاور اور آصفہ سے ملنے دوبارہ دبئی گئیں تو ملک میں جنرل مشرف نے 3 نومبر کو ایمرجنسی نافذ کر دی۔ یہ خبر سنتے ہی بے نظیر دبئی سے واپس وطن لوٹ آئیں۔ ایمرجنسی کے خاتمے، ٹی وی چینلز سے پابندی ہٹانے اور سپریم کورٹ کے ججز کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ اس وقت تک ملک میں نگران حکومت بن چکی تھی اور مختلف پارٹیاں انتخابات میں حصہ لینے کے معاملے میں بٹی ہوئی نظر آ رہی تھیں۔

اس صورت میں پیپلز پارٹی نے میدان خالی نہ چھوڑنے کی حکمت عملی کے تحت تمام حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے۔ اور کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ۔مختلف تجزیوں اور بیانات کے مطابق 27 دسمبر 2007ء کو جب بے نظیر لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آباد جا رہی تھیں تو لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے کارکنان بے نظیر بھٹو کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔ اس دوران جب وہ پارٹی کارکنان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکل رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔

اس کے بعد بے نظیر کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک زوردار دھماکا ہوا جس میں ایک خودکش حملہ آور جس نے دھماکا خیز مواد سے بھری ہوئی بیلٹ پہن رکھی تھی، خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے میں بینظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں، اس کو بھی شدید نقصان پہنچا لیکن گاڑی کا ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل ہسپتال لے گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئیں۔پیپلزپارٹی نے حکومت بنانے کے بعد بے نظیر کے قتل کی تحقیقات اپنے پرانے مطالبے کے مطابق اقوام متحدہ سے کروانے کے لیے درخواست دی جو اس نے قبول کر لی۔

آصف علی زرداری نے بے نظیر بھٹو کی پہلی برسی پر دعویٰ کیا کہ انھیں معلوم ہے کہ قاتل کون ہیں۔ البتہ صدر مملکت بن جانے کے بعد دوسری برسی پر اپنی تقریر میں اس بارے میں کچھ نہ بتا سکے اور یہ سچ آج تک سامنے نا آسکا کہ بے نظیر بھٹو کو قتل کس نے کیا اس بارے میں مبصرین کی مختلف رائے ہے۔ان چار سیاستدانوں کے علاوہ بھی خواتین سیاستدان ہیں جس میں غنوی’ بھٹو،مریم نواز اور آصفہ بھٹو شامل ہیں۔غنوی’ بھٹو جو کہ بے نظیر بھٹو کے بھائی کی بیوہ ہیں وہ پیپلز پارٹی کے دو گروپس کے غیر معروف گروپ سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ انکی صاحبزادی فاطمہ بھٹو اپنے والد کیلئے ایک کتاب بھی لکھ چکی ہیں۔جبکہ بے نظیر کی صاحبزادیوں آصفہ بھٹو اور بختاور بھٹو میں فلحال آصفہ بھٹو زیادہ سرگرم دکھائی دیتی ہیں۔پاکستان کی خاتون سیاستدانوں میں مریم صفدر جو اپنے اصل نام مریم نواز شریف سے جانی جاتی ہیں۔ ایک پاکستانی سیاست دان ہیں۔ اور نواز شریف اور کلثوم نواز شریف کی بیٹی ہیں۔سیاسی طور پر وہ بھی اپنے والد نواز شریف کا سیاسی کیریئر بچانے میں ہمیشہ انکے شانہ بشانہ دکھائی دیتی ہیں۔

آج پاکستان میں خواتین کی سیاست پر بات کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ فاطمہ جناح کے علاوہ یہ تمام خواتین بھٹو اور شریف خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جسکو موروثی سیاست کہا جاتا ہے جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں میں شامل خواتین کو سیاست میں آنے کا موقع تو ملا مگر سیاستدان بن کر ابھرنے کا نہیں ۔جس ملک میں سیاست میں آکر کسی خاندانی اور پڑھی لکھی لڑکی کو گالیاں ،گندے نعرے اور کردار کشی سہنی پڑے کیا اس ملک میں ہم کسی بہادر خاتون سیاستدان کا خواب دیکھ سکتے ہیں؟ یا پھر کبھی فاطمہ جناح یا بے نظیر کی طرح ذہنی یا گولی کی دہشت گردی سے عورت کی آواز بند کر دی جائے گی۔اللہ نے عورت کو بہت مضبوط بنایا ہے اسلئے مجھے امید ہے کہ گالیاں کھا کر ،گندے نعرے سن کر اور کردار کشی کے الزامات سہ کر بھی پاکستان میں آج نہیں تو کل عورت سیاست بے آواز نہیں رہے گی۔


نوٹ: بلاگر اور صارفین کی رائے سے ادارے کی پالیسی کا کوئی تعلق نہیں، نیز کمنٹس / تحاریر لکھنے والے افراد اپنے الفاظ کے مکمل ذمہ دار ہیں۔ نوٹ: بلاگر اور صارفین کی رائے سے ادارے کی پالیسی کا کوئی تعلق نہیں، نیز کمنٹس / تحاریر لکھنے والے افراد اپنے الفاظ کے مکمل ذمہ دار ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں: