اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں تعصب درتعصب تحریر: محبوب سید ظفر

اس کے بعد سے جدیدیت و قدیمیت کی انتہا نے خوب زور مچائے رکھا آدھا اسلام الگ ھو گیا باقی جو رہا ایک طرف اس قدر جدیدیت کے دوپٹے چادر بیک ورڈ جان کے اتار دیئے گئے سود شراب رشوت کا بازار جمایا گیا یا آدھی رھ گئ چادر دوسرے طرف قدامت کی ایسی انتہا کہ بچیوں کے اسکول بم سے اوڑانے کو تیار جہاں خالی جگہ دیکھو مسجد زررار مدرسے لوگ پھٹنے کو تیار اور افسوس دونوں کی کمانڈ وردی پوش کے ہاتھ رہی آج ساری دنیا نےمانا یہ بات ایک زندگی کتنے بم گھٹ کےمر نہ جاتے۔

اہل ایمان شعور بقیہ پاکستانی شہری کہ اس درمیان ایک تہذیب نے سندھ شہری علاقے سے جمہوری انداز میں حیرت و احسن کردار اپنا کر خوشگوار احساس علم شعور عملی کام سے کراچی میں اکابرین پاکستان کی نسل کے اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں نے اپنی نسل کی اپنے کام سے پہچان کرایا جب انہیں ذمہداری دی گئ مقامی تمام رھائشیوں بچے بوڑھوں مرد زن نے اس تبدیلی کو قریب سے خوب انجوائے کیا۔

اس کے ساتھ ہی سابقہ قابضین شہر کراچی حیدرآباد کا مسلسل غیر مقامی جاگیردار وردی پوش گھٹ جوڑ ایک ایجنڈے پر غیر مقامی افسر شاھی پرانے سیاسی مذہبی دوکانداروں کے غلبے کا مشترکہ بے رحمانہ کھیل شروع ھوا بازی پلٹ دیاگیا عوام سے جمہوریت کے فوائد جبریچھین لیئے گئے اکابرین پاکستان کے نسل والے جوانوں نے کام کر کے دکھایا تو غاضبوں نے ایلیٹ کلاس اسٹیبلشمنٹ کو ساتھ ملا کر اس جگہ اپنی سازشوں سے 2008ء سے2010ء میں تمام اختیارات مقامی نظام چلانے والے تہذیب کو اپنے زر خرید دلالوں کے ہاتھوں بدنام کر کے وقتی طور پر چھین لیا۔

آج کراچی حیدرآباد اپنے اصل مینڈیٹ رہبری جبری چھن جانے پر بہت مشتعل بھی مگر وردی و بندوق کے زور پالتو میڈیا کے جھوٹ در جھوٹ پر وہ لاوا کسی کو دکھائی نہیں دے رہا وہ وقت ضرور لے رہا ہے وارم اپ تک شاید اس سے قبل کراچی حیدرآباد کے جو ترقیات اس رہنما و اس کے ذمہ داروں نے دونوں شہروں کو پہنچایا اس کی چند ایک مثال جس سے کسی اہل ایمان و شعور کو اختلاف نہیں ہے۔

اس وقت بلدیہ کے پرائمری اسکول بھی تمام بچوں کو پرائیوٹ اسکول جیسی تعلیم پہنچا رہے تھے، سرکاری اسپتال آخر تک عزت نفس کے ساتھ تمام بیماریوں پر عمدہ خدمات دے رہے تھے، گٹر نالے سڑکوں پر بہتے نظر نہیں آتے تھے گلیاں روڈیں کھنڈرات کا منظر نہیں پیش کرتی تھیں کسی ایک ٹاؤن میں منشیات جوئے سٹے کے اڈے بنانے کی اجازت نہیں تھی۔

کراچی کے 14 ٹاؤن جہاں ان کے بلدیاتی نمائندے رہے جو ان تہذیب یافتہ باشعور رہنما و ذمہ داروں کے سپروائزری میں رہے وہاں خوبصورت پارک پھل پھول سے مبرا ھوتے تھے فیملی بھر کے لیئے رونق افروز اور دل جوئی کے سامان بنے ھوتے تھے، تمام مکارانہ جھوٹے پروپیگنڈہ سازشوں سے قبل پھر 2010ء کے بعد بے پناہ رقم دی گئی کراچی کا انتظام اہل شعور و کردار والے با تہذیب جماعت و رہنما سے چھیننے کے لیئے زور لگا دیا گیا۔

پہلے اپنے قدیم پالتو منشیات فروشوں کے زریعے قتل عام کرایا گیا جب انہوں نے دفاع میں اسلحہ رکھا تو بلدیہ فیکٹری میں بے رحمانہ قتل عام کر کے اس کا الزام اس شہری تہذیب یافتہ باشعور پارٹی رھنما و زمہ داران پر ڈال کر سیکڑوں نوجوانوں کو دھشت گرد کہ کر گھروں سے اٹھا اٹھا کے قتل کر کے ویرانوں میں پھینکا جانا شروع ھوا گمشدہ کرنا شروع ھوا جبری اسیری پھر پالتو میڈیا سے مقتول کو ہی قاتل بنانے پر اربوں روپیئے لگا دیئے گئے جس کا نتیجہ آج پورا شہر ناانصافی طوائف الملوکی کا منظر پیش کر رہا ھے اور غاضبین کے ساتھ تمام ریاستی طاقتیں بھی ساتھ ملی ھوئ اس کے باوجود اس شہر کراچی کے متعلق نیچے کچھ جو لکھوایا ھے بابا نے بڑے یقین کے ساتھ کہ جس دن یونائیٹڈ نیشن سلامتی کونسل کے ذمہداروں کی موجودگی میں کراچی حیدرآباد میں آزادنہ ووٹنگ ھوئ متعصب دھوکہ بازوں مکاروں غیر مقامیوں کا تمام جھوٹ کھل کے سامنے آجائے گا اس لیئے آپ کراچی دوست کسی بدگمانی میں پھنسنے سے بچنے نا خواندگی سے عوام کو بچانے مزکورہ حقیقی سچائی خود پڑھیں شیئر کریں دوست احباب تک اسے پہنچائیں اپنا ووٹ بچا کے رکھے تمام زاغوں دھوکے بازوں اجرتی قاتلوں سے

اپنا تبصرہ بھیجیں: