آج ایک بار پھر سے ملک پاکستان میں صدارتی نظام کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، جسے عوام میں قابل قبول بنا نے کے لیے اسلامی صدارتی نظام کا راگ الاپا جا رہا ہے، اس نظام کی راہ ہموار کرنے کے لیے پاکستان کی عوام کی زہن سازی کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔
میرا سوال ان نادیدہ قوتوں سے ہے جو اس نظام کے تانے بانے بن رہے ہیں کہ کیا مملکت پاکستان اس نظام کا متحمل ہو سکتا ہے؟ باوجود اس کے کہ آئین پاکستان میں صدارتی نظام کی گنجائش موجود نہیں ہے لیکن پاکستان کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال اور خطے کی موجودہ صورتحال کیا ہمیں اس تجربے کی اجازت دیتی ہے؟
آج کل کے ٹی وی ٹاک شوز میں نام نہاد دانشور، خود حکومتی اراکین اور سابق ریٹائرڈ اس نظام کے حق میں دلائل دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، کیا ہم نے جنرل ضیاء الحق کے دور کے صدارتی نظام سے سبق نہیں سیکھا؟ کیا موجودہ نظام جمہوریت فیل ہو چکا ہے؟ اور مملکت کو ایک اور تجربے کے بھینٹ چڑھا نے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔
ایک محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے میں یہ سوال کرنے کا حق رکھتا ہوں کہ کیا صدارتی نظام میں ہی پاکستان کے تمام مسائل کا حل پوشیدہ ہے اس نظام کے حامی پہلی دلیل یہ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ وہ سیاسی جماعتیں جن کے ساتھ اختلاف کے باوجود مجبوراً اتحاد کرنا پڑا ان کی بلیک میلنگ سے چھٹکارا مل جائے گا۔۔۔ کیا ایسا ممکن ہے؟
دوسری دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ قومی خزانے کو اس نظام سے بہت فائدہ ہو گا کیا، اس نظام کے آنے سے اور خزانے کی بچت سے پاکستان کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے؟ موجودہ حالات کے پیش نظر آپ کسی ذی شعور پاکستانی سے یہ سوال کریں کہ موجودہ نطام کو لپیٹ کر نیا نظام متعارف کروانے سے پاکستان کے مسائل حل ہو جائیں گے تو یقیناً اس کا جواب نفی میں ہوگا۔
تو کیا اس نظام کے آجانے کے بعد ہم فارن انویسڑ کو پاکستان آنے پر راضی کرسکیں گے؟ کیا مملکت کے لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق تعلیم صحت اور انصاف مل جائیں گے؟ کیا طبقاتی اور معاشرتی تضاد کا خاتمہ ہو جائے گا؟ کیا مملکت میں انصاف کا بول بالا ہو گا؟ کیا امیر اور غریب کیلئے انصاف کا معیار ایک ہوگا؟ کیا مہنگائی بیروزگاری کا خاتمہ ہو جائے گا؟ کیا اس نظام کے آنے کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا؟ کیا سرکاری اداروں میں مداخلت ختم ہو جائے گی؟ کیا تمام ادارے اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں گے؟ کیا اس کو لانے کیلئے جمہور کو اعتماد میں لیا جائے گا جن کے ووٹوں سے یہ لوگ مسند اقتدار پر براجمان ہیں؟
ایسے لاتعداد مسائل ہیں جن کا زکر کیا جاسکتا ہے لیکن گزارش یہ ہے کہ خدارا مملکت کو ایک اور تجربے سے نہ گزارا جائے کیونکہ ہماری سیاسی اور معاشی حالت اس قابل نہیں ہے اور ہماری سیاسی اور عسکری قیادت گزشتہ تجربے کے حقائق سے بخوبی آگاہ ہے جو قومیں اپنے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتیں تاریخ میں گمنام ہو جاتی ہیں۔
اللہ مملکت پاکستان کی اور مملکت میں رہنے والے لوگوں کی حفاظت کرے آمین
مہر عمران آرائیں چیچہ وطنی
