Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
معاشرے کے مُردار ذہن | زرائع نیوز

معاشرے کے مُردار ذہن

تحریر: عمیر دبیر

2 ماہ پانچ روز قبل یعنی 24 جون بروز پیر مغرب کی اذانوں سے چند منٹ قبل جب آسمان سرخ اور سفید رنگ کا ملاپ دھارے ہوئے تھا تو موبائل فون کی گھنٹی بجی، فون اٹھایا تو میرا بھائی جو بہت اچھا دوست بھی ہے اُس کی ہیلو سماعت سے ٹکرائی۔

ہیلو عمیر۔۔ میں عائشہ منزل والے آغا خان اسپتال میں ہوں!!! میں نے خیریت دریافت کی تو ضبط توڑتے ہوئے اگلی ہی سانس میں بتایا کہ بیٹا پیدا ہوا ہے اور پھر روتے ہوئے فون رکھ دیا۔

میں نے دوبارہ متعدد بار رابطے کی کوشش کی مگر فون کسی نے نہ اٹھایا، دل بہت زیادہ گھبرا گیا تھا، دماغ میں سوالات پیدا ہونا شروع ہوئے کہیں ایسا تو نہیں کہ خدا نہ کرے طبیعت خراب ہو۔

قصہ مختصر مغرب کی نماز ادا کرتے ہی موبائل اٹھایا اور بھاگم بھاگ اسپتال پہنچا، مرکزی معلوماتی  پوائنٹ پر پہنچ کر مریضہ کا نام بتایا تو انہوں نے تصدیق کی کہ ہاں اسپتال میں ایڈمیٹ ہیں۔

پندرہ منٹ کی کٹھن تلاش کے بعد انتظار گاہ کے پچھلے حصے میں پہنچا تو وہ گھر اور سسرال والوں کے ساتھ ایک میز پر بیٹھا تھا جس پر مختلف انواع اقسام کے کھانے اور مٹھائیاں موجود تھیں۔

صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے دبے قدموں سے واپس گیا اور اسپتال کے عقب میں موجود دکان سے کیک خریدا پھر واپس اُسی مقام پر آیا تو راحیل گلے لگ کر رونے لگا، بار بار پوچھنے پر بتایا کہ سب خیریت ہے ، بھابھی وارڈ میں ہیں کچھ دیر میں ڈاکٹر انہیں بچے کو دے دیں گے۔

اب ہم انتظار گاہ میں بیٹھے مختلف پلانز بنا رہے تھے، نام کیا رکھیں، عقیقے کا کیا کریں؟ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اسی دوران راحیل کی والدہ نے بتایا کہ بچہ ماں کے پاس آگیا اور اب ہم اُسے دیکھ سکتے ہیں۔

کچھ ہی لمحوں بعد نومولود کی شہزادوں کی طرح آمد ہوئی، مجھ سمیت تمام ہی لوگ ننھے فرشتے کو دیکھنے کے لیے بھاگے، سب نے دیکھا تعریفی کلمات ادا کیے، اللہ کا شکر ادا کیا اور پھر ہم واپس اپنی جگہوں پر آگئے۔

ابھی نام پر مشورہ جاری تھا تو بزرگوں کے مشورے کے بعد ’محمد احمد‘ کے نام کو حتمی قرار دیا گیا، سب نے ہاں میں سر ہلایا، تصدیق ہوگئی کہ اب اُسے اسی نام سے پکارا جائے گا۔۔ میں نے اور راحیل نے تصور کیا کہ جب اسکول جائے گا تو ٹیچر اتنا طویل نام لے گی کہ چھٹی کا وقت ہوجائے گا۔

محمد احمدکی  ایک ماہ بھی طبیعت ناساز  ہوئی، ڈاکٹرز کو دکھایا معاملہ بالکل ٹھیک ہوگیا، بچہ صحت مندی کی طرف گامزن تھا کہ شاید اُس کو کسی کی نظر لگ گئی۔

ابھی پانچ روز قبل 19 اگست کو ہی بہت دھوم دھام کے ساتھ احمد کی شاندار تقریبِ عقیقہ رکھی گئی، اپنی ماں کی گود میں آنکھیں موند کے لیٹا رہا، لوگوں نے خوب تصاویر بنائیں، سب کی خواہش تھی کہ وہ ننھے ہیرو کے ساتھ تصاویر بنوائے۔

مگر اللہ کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا!! گزشتہ رات احمد کی اچانک طبیعت خراب ہوئی اور وہ دنیا فانی سے رخصت ہوگیا۔ یہ خبر میرے لیے کسی سانحے سے کم نہیں تھی، اب اُس ننھے فرشتے کا جسد خاکی غسل دینے کے بعد گھر لے کر پہنچے۔

احمد کے جانے کا دکھ غم درد اُس کے ماں باپ سے زیادہ کسی کو نہیں ہوگا کیونکہ وہ دو برس قبل اسی طرح کے سانحے سے گزر چکے، راحیل نے اپنے دوسرے بچے کو اللہ کے سپرد کردیا۔

تعزیت کے لیے لوگوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا، عید کی خوشیوں میں کھوئے ہوئے لوگ بھول گئے کہ ایک باپ کو دلاسہ کیسے دینا چاہیے۔۔ گلے مل کر ہر دوسرا آدمی پانچ روز پہلے ہونے والے عقیقے کا تذکرہ کرتا دکھائی دیا بلکہ ایک نے تو یہاں تک بولا کہ اچھا ہوا گائے کل ہی کاٹ دی ورنہ سوچو آج کیا ہوتا۔۔۔