ننھی نشوہ غلط انجیکشن لگنے سے موت کے منہ میں چلی گئی کورنگی کی ایک اور 4 سالہ بچی غلط انجیکشن لگنے سے موت کا شکار ہوگئی، ہم تو سنتے تھے کہ ڈاکٹر مسیحا ہوتے ہیں اور ان سے خدمت خلق اور دکھی انسانیت کی خدمت کرنے کا حلف لیا جاتا ہے پر کیا ہمارے معاشرے میں کوئی مسیحا ایسا نظر آتا ہے جو انسانیت کی خدمت کا جزبہ دل میں رکھتا ہو۔
اپنے ارد گرد دیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں تو لوگ راتوں رات امیر بننے کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کا جزبہ لے کر شعبۂ طب میں آتے ہیں، کیا ہوا اس دشوار گزار راستے میں اگر دس بارہ نشوہ کام آگئیں انہیں اس کی کیا پر واہ انہوں نے تو اسے جنم نہیں دیا تھا ان کی تو آنکھ کا تارا نہیں تھی پر ان ماں باپ کا کیا جنہوں نے اپنی بچی کیلئے کیا خواب نہیں دیکھے ہوں گے مگر افسوس کہ وہ ان کے حقیقت کا روپ دھارنے سے پہلے ہی اس جہان فانی سے کوچ کر گئی۔
عبیرہ حسین کی دیگر تحاریر
https://zaraye.com/syeda-abeera-hussain-2/
نشوہ جیسی نا جانے کتنی معصوم کلیاں روز کھلنے سے پہلے ہی مرجھا جاتی ہونگی نہ جانے کتنی ماوں کی کوکھ اجڑتی ہوگی کتنے باپ بیٹی کی ڈولی کے بجائے میت دفنا چکے ہوں گے ۔ کیا ان جعلی ڈاکٹرز کا احتساب ضروری نہیں جو کھلے عالم لوگوں میں باآسانی موت تقسیم کر رہے ہیں؟۔
کیا یورپ کی طرح ان کی غفلت سے ہونے والے جانی نقصان کے بدلے ان کے لائیسنس منسوخ کئے جانے چاہئیں؟ اگر حکومت نے ان قصاب نما ڈاکٹر کا احتساب نہ کیا تو کل ان کے بچے کی باری بھی ہوسکتی ہے، آئے روز ڈاکٹرز کا احتجاج اپنے مطالبات منوانے کیلئے اوپی ڈی بند کرنا ہزاروں مریضوں کو بے یار و مددگار چھوڑنا ان کے درندہ ہونے کی نشان دہی نہیں کرتا۔
https://zaraye.com/syeda-abeera-hussain/
کیا ایسے لوگ مسیحا کہلانے کے قابل ہیں میری حکومت پاکستان سے اپیل ہے خدارا اس پر ایکشن لیجئے اور ذمہ دار ڈاکٹرز کے لائسنس منسوخ کر کے قرار واقعی سزا دیجئے ورنہ نامعلوم افراد کی طرح یہ ڈاکٹرز بھی قوم کے قاتل بن کر کچھ بھی کرتے رہیں گے کیوں کہ انہیں کوئ پوچھنے والا جو نہیں اور یہ ان ڈاکٹرز کے لئے بھی بدنامی کا باعث ہیں جو واقعی انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔
