اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں عمران فاروق قتل کیس کی سماعت ہوئی جس میں دو ملزمان نے اپنے اعترافی بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں نامزد ملزمان خالد شمیم اور محسن علی کو مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا۔
خالد شمیم نے الزام عائد کیا کہ بیان قلم بند کرنے سے قبل انہیں ہراساں کیا گیا اور خوف کے سائے میں بھی رکھا گیا، اعترافی بیان دلوانے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، عدالت میں ایف آئی اے کی جانب سے پیش کردہ اعترافی بیان میرا نہیں بلکہ تفتیشی افسر کی ہدایت ہے جس کو میں نے اندوہناک تشدد کی وجہ صرف پرچہ پڑھا تھا۔
https://zaraye.com/dr-imran-farooq-case-hearing/
دوسرے ملزم محسن علی نے مجسٹریٹ کے سامنے کہا کہ ’میں نے جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بننے کے باوجود اعترافی بیان دینے سے انکار کیا جس کے بعد مجھ سے ایک پرچے پر دستخط لیے گئے اور بتایا گیا کہ یہی میرا اعترافی بیان ہے۔
مجسٹریٹ نے تیار ہونے والے اعترافی بیان پر دستخظ کیے اور مہر لگا کر اُسے اپنے پاس رکھ لیا۔ عدالت نے بطور ملزم بیان ریکارڈ کرنے کے لیے سوالنامہ فراہم کیا تھا جن کے جوابات انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمع کرائے گئے ۔
https://zaraye.com/muzzam-ali-wife-sadia-muzzam-statment/
