کراچی سے تعلق رکھنے والے معروف قوال امجد صابری کو ہم سے بچھڑے تین سال کا عرصہ بیت گیا اُن کی منفرد آواز اور انداز کی کمی مداح آج بھی محسوس کرتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق لیاقت آباد دس نمبر کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی گولیوں کا نشانہ بننے والی شہید امجد صابری کے اصل قاتلوں کا تاحال سراغ نہ لگایا جاسکا جبکہ نہ ہی حکومت کی جانب سے اُن کے اہل خانہ سے کیے گئے وعدے وفا ہوئے۔
امجد صابری کے چاہنے والوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شہید کو خراجِ عقیدت پیش کیا جبکہ کسی بھی سیاسی یا مذہبی تنظیم کی جانب سے کوئی تعزیتی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
شہید کے اہل خانہ کی جانب سے جائے شہادت پر چراغ روشن کرنے کی تقریب رات کو منعقد کی جائے گی جس میں اُن کے فرزند اور دیگر عزیز و اقارب شرکت کریں گے۔
خیال رہے کہ 22 جون 2016 کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد نمبر 10 میں موٹر سائیکل سوار ملزمان نے امجد صابری کی گاڑی پر فائرنگ کرکے انہیں ہلاک کردیا تھا۔
جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حکیم اللہ محسود گروپ نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
امجد صابری معروف قوال صابری گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور غلام فرید صابری کے صاحبزادے تھے۔
وہ 23 دسمبر 1976 کو پیدا ہوئے، انھوں نے 1988 میں فنی سفر کا آغاز کیا اور اپنے والد کی مشہور زمانہ قوالی ‘تاجدار حرم’ کو یوں پیش کیا کہ سننے والے جھوم گئے۔
