میں طفل مکتب ہوں، تحریر : کامران رضوی

واقعات ہوتے ہیں اور ہوتے رہینگے جب تک یہ دنیا آباد ہے 9/11 کا واقعہ سانحہ امریکہ کے لیے جو تھا وہ امریکہ جانے ہاں لاتعداد انسانوں کی ہلاکت قابل افسوس تھی اور اب تک قابل افسوس ہے 9/11 کے بعد حکومت پاکستان کا انداز حکمرانی ایک بار پھر صرف پاکستان نے نہیں اسلامی ملکوں اور دنیا نے دیکھا 1977/78 والا پاکستان اپنے اندر تبدیلی لا رہا تھا طالبان القاعدہ جیسی شدت پسند تنظیموں سے اپنا سایہ تک ہٹانے کو تیار تھا جب جرنل ضیا تھا تب جہاد کو نظریہ پاکستان ثابت کیا گیا اور اب جرنل مشرف تھا تو وہ پاکستان کو سیکولرازم کی جانب لے جانے والا دونوں حکمراں فوجی تھے اور صاحب کی رضامندی سے صاحب اقتدار تھے۔

12 اکتوبر 19 99 ہو یا 5 جولاٸ 19 77 اقتدار ہمیشہ صاحب کی رضامندی سے ہی ملا مجھے پتہ ہے کہ میں نے جولاٸ لکھا تو اپ لوگ سمجھے ہونگے کے میں 25 جولاٸٸ 20 18 لکھنے جا رہا ہوں اور اپ بالکل درست سمجھے جرنل قمر باجواہ کی ایکسٹینشن اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو جرنل ضیا اور جرنل مشرف کو اقتدار کی صورت میں ملی فرق اتنا ہے کہ اب امریکہ برطانیہ یا یورپ مارشلا پاکستان میں نہیں چاہتے تو صورت عمران خان نیازی کی ہے کام سارا وردی کا ہے ورنہ کسی بھی 1947 سے لیکر عمران نیازی کی حکومت سے قبل تک ڈی جی ای ایس پی ار کی اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اصف غفور صاحب کی طرح خارجہ تجارت یا خزانہ کے معملات پر میڈیا پہ بات کرے داخلہ تو ویسے بھی ریاست کہ پاس ہی ہوتی ہے۔ بات کر رہے تھے ہم 9/11 کے بعد کے پاکستان کی جہاں جہاد ختم ہوچکا تھا القاٸدہ کی صورت لیکن مجاہدین کی صورت میں موجود تھا طالبان بڑھ چڑھ کر دھماکے اور خدکش دھماکے کرتے رہۓ جبکہ اسوقت کے صدر پاکستان بہت سے سُر لگا کے ملک کو سریلہ کرتے رہۓ لیکن طالبان اور القاٸدہ اپنے سروں پہ قاٸم رہۓ دنیا کو ہم نے بہت زیادہ کم عقل سمجھا ہوا تھا نتیجہ ایسا بھیانک نکلا کہ سابق امریکی صدر جونیر جارج بش اسلام اباد میں گگلی پھینک کر گۓ اور ہم تالیاں بجانے پہ مجبور تھے القاٸدہ کا سربراہ ایبٹ اباد کے اس گھر میں رہ رہا تھا جس میں عام ادمی یا سویلین باسٹرڈ جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا لیکن ہم ڈھٹاٸ میں ماسٹر کیے ہوے پاکستانی نمبر ون ریاستی طاقت اور نمبر ون خفیہ ایجینسی کے ساتھ نمبر ون پہ اب تک فلاں فلاں کے ساتھ موجود ہیں یہ الگ بات ہے کہ انڈیا سے ہم تجارتی راستہ کھول چکے ہیں مگر فضاٸ راستہ انڈیا کے لیے بند ہے کرتار پورا پہ کام 90 فیصد مکمل ہے لیکن کشمیر پہ بیانیہ خطرناک ہے وہ ایک کشمیری بچی اسکا ایک ویڈیو کلپ نظر سے گزرا تو احساس ہوا کشمیری بچے بھی اب اچھے سمجھدار ہوچکے ہیں اچھے معقول سوال تھے اس لڑکی کے سندھ طاس معاہدہ اور شملہ معاہدہ کا جواب اگر دوں بھی تو بیٹا بہت دیر کردی تم نے ہم اب تک کیے گۓ ہر معاہدے پر شرمندہ ہی ہوتے ہیں کیونکہ اسمیں پاکستان ہمیشہ بعد میں اتا ہے پہلے ہماری جیب سامنے ہوتی ہے۔

ایشیا پیسفک گروپ جو FATF کا ایک ایشیا میں ایک گروپ ہے اس نے اب سے چند دنوں قبل ہمیں بلیک لسٹ کر دیا تھا حکومتی حلقوں نے روایتی سا شور مچایا کے ایشیا پیسفک گروپ کے پاس یہ اختیار ہی نہیں ہم اختیار اور بے اختیاری کا کھیل جو ملک میں بہت زور شور سے چلتا ہے FATF کو بھی اس کھیل میں لے اۓ اب پیر کے دن جب وہ اور ہم امنے سامنے ہونگے تو بہت سے حقاٸق اور بہت سے اختیارات ایشیا پیسفک گروپ کہ ہمارے سامنے اجاٸینگے بس ہوگا اتنا کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اس پہ غلط بیانی سے کام لیگا کے سب کچھ ٹھیک ہے پاکستان زنداباد بھاٸ قسم لے لیں پاکستان زندا باد یہ ہی نعرہ میرا بھی ہے لیکن ایمن الظواہری اور طالبان ہمارے رفیق ہیں اور یہ رفاقت 15 اکتوبر کے بعد بہت کچھ سکھاٸیگی بھی اور سناٸیگی بھی جب ہم اتنا سا فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں کے حکومت فوج کی ہے تو ہم سینہ ٹھونک کر کہیں کہ ہاں فوجی حکومت ہے لیکن دنیا بھر کے کم عقل لوگ ہم سے سنجیدہ مذاق کر رہۓ ہیں اور ہماری مجبوری دیکھیں کہ ہم امریکہ کی 21 توپوں کی سلامی پہ خوش ہیں اور سامنے اس شخص کو اقتدار میں بٹھایا ہوا ہے جو پنجاب کے وزیراعلیٰ کو فقط اس لیے کرسی سے چپکایا ہوا ہے کے پنجاب کے لوگ بھی سیاسی سوجھ بوجھ چھوڑ کر وزیراعظم کے سیاسی چودہ طبق کی روشنی میں پنجاب کو دیکھیں پنجاب کے لوگوں میں محبت اگتی ہے اور اس میں پاکستان سرفہرست ہے جو پنجاب کی محبتوں سے سرشار ہے وہ کے پی کے کی حکومت کو کیوں نہ دیکھیں جہاں کے ہی کے کا اقلیتی نماٸندہ بلویر کمار کے پی کے کو چھوڑ کر بھارت میں سیاسی پناہ کا مطالبہ کرتا نظر اتا ہے بلویر کمار سنگھ تحریک انصاف کے پی کے کا اہم رکن تھا لیکن وہ انڈیا میں یہ بات کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں فوجی حکومت ہے تحریک انصاف کہ کے پی کے حکومت کے ترجمان اب بلویر سنگھ کو تحریک انصاف میں رکھیں یا نکالیں وقت تو ہاتھ سے بلویر سنگھ لے گیا سرادار سورن سنگھ کا قتل معمہ بن کے رہ گیا میری کشمیری بیٹی لو تم ہی دیکھو ہمارے ملک کا حشر تمہیں غلط فہمی ہے کے ہم اس کشمیر میں جاٸیں جو بھارت کا حصہ ہے جرنل پرویز مشرف کی طالبان اور القاٸدہ سے دور رہنے کی حکمت عملی سے جہاں پاکستانیوں کو بہت سا سبق ملا ہے وہیں دنیا بھی بہت کچھ سمجھ چکی ہے۔

طالبان کی لیڈر شپ سے دوحہ میں وزیراعظم کی ملاقات عمران خان کی نااہلی مزید ثابت ہوچکی ہم اب تک مذہبی مسلکی فرقہ بندیوں میں اٹکے ہوے ہیں امریکہ نے فیصلہ وہی کیا جو جان بولٹن کا فیصلہ تھا جان بولٹن قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت میں اپنی بات منوا کر واٸٹ ہاوس سے رخصت ہوا اسکا استفیٰ ڈونڈ ٹرمپ کا جبر نمایاں کر رہا ہے جان بولٹن نے صاف اور واضعہ الفاظ میں طالبان کو دہشت گرد قرار دیا امریکی عوام جان بولٹن کے ساتھ کھڑی ہے طالبان اپنے پرانے نعروں پہ واپس اچکے طالبان نے ایک بار پھر قتل و غارت اور دھماکوں کی دھمکی دی ہے جان بولٹن ان حالات کو سامنے رکھ کر اگلا صدارتی امریکی انتخاب کو دیکھ رہا ہے جبکہ ہم طالبان کے حماعیتی بنے بیٹھے ہیں ہمارا بیانیہ یہ ہے کہ افغانستان کا امن پاکستان کا امن ہے کمال دیکھیں کہ چین ایران اور بھارت یہ بات نہیں کہہ رہۓ انکے ملک میں امن پاکستان کے امن سے جڑا ہے۔

لگے ہاتھوں ایک بات اور اور وہ یہ کہ امریکہ اور ایران کی جنگ جسکا میں مخالف رہا اور کہتا رہا کہ امریکہ ایران جنگ نہیں ہوگی اچھا بھی لگا کہ ایران و یونان دنیا کی ابتدای تاریخ کے حصہ ہیں اور خوشی بھی ہوٸ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا اعتراف کیا کے ایران دہشت گردوں کے خلاف ایک مضبوط دیوار ہے کاش میرے پاکستان کے لیے بھی کوٸی صدر کچھ ایسا ہی کہہ دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: