Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
خوف کے سائے میں سچ لکھنا... تحریر آصف ناقد

خوف کے سائے میں سچ لکھنا… تحریر آصف ناقد

انتہائی ادب اور عاجزی کے ساتھ صحافتی اور عدالتی اکائیوں سے معذرت کرتے ہوئے جنبش قلم کی جسارت کا مرتکب ہورہا ہوں۔ مذہبی گھرانے سے تعلق اور الحمداللہ مسلمان ہونے کے ناطے دین اسلام کی تاریخ اور ادوار کے مشاہدے سے پتہ چلتا ہے کہ عدل اور انصاف کے توازن کو برقرار رکھنا کس قدر ضروری ہے۔

اس کی سب سے بڑی مثال سرکار دوعالم ﷺ اور پھر تمام صحابہ کرامؓ بالخصوص جناب عمر فاروقؓ کے دور خلافت سے ثابت ہے لیکن اس کے برعکس آج بدقسمتی سے عدل اور انصاف صرف چند لوگوں کے گھر کی لونڈی بن کر رہ گئے ہیں، غریب روٹی چرانے والے کے خلاف عدل کی مثال قائم کی جاتی ہے کہ لوگ انگشت بدنداں ہوجائیں جبکہ امیر جب کبھی بھی ناانصافی کا مرتکب ہواجب جب یہی عدل اور انصاف خاموش ہوگیا

۔اب یہاں تمام کا ذکر کرنا تقریباً نا ممکن ہے اور اس بات کا اندازہ بھی ہے کہ دور حاضر میں ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ اب ہر خبر چند لمحوں میں کم و بیش ملک و ارض کے ہرگوشے میں پہنچ جاتی ہے لیکن ضروری امر یہ ہے آخر نہ انصافی کب تک یونہی برقرار رہے گی ؟

قانون اور انصاف کب تک صرف امیروں کے اور بڑے لوگوں کے جوتے چاٹتا رہے گا؟ ملک کی بیشتر عدالتوں کے باہر قرآن و حدیث کی عبارت تو لگی نظر آتی ہے  لیکن کیا ان کا اطلاق صرف غریب لوگوں کے لیئے رہ گیا ہے؟

سنا ہے کہ قانون اندھا ہوتا ہے لیکن یہ کیسا اندھا ہے کہ امیر اور غیرب کا فرق خوب پہچان جاتا ہے ؟؟ عدل و انصاف کیلئے ضروری امر سچ پر مبنی خبر ہوتی ہے۔

صحافتی آزادی ہونے کے بعد سے اب تک سینکڑوں خبر یں یہاں چینلز پر مختلف انداز میں صحافت کا دم بھرتے نظر آتے ہیں ۔ ہر چینل ایک سے بڑھ کر ایک صحافتی حضرات کی خدمت حاصل کیے ہوئے ہے، ایک سے بڑھ کر ایک اینکر پرسن جو کہ سیاست سے لیکر فیشن تک کے موضوعات پر اپنے بے باک تجزیئے کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ حق کو حق اور سچ کو سچ کہنا ہی اصل صحافت ہے۔

غیر جانب دارانہ پہلو صحافت کی اولین ترجیح ہے پھر چاہے مسئلہ اپنی ذات سے کیوں نہ جڑا ہو۔ لیکن آج صحافت بالکل اس کے برعکس پسند و ناپسند اور ڈکٹیٹڈ خبروں پر محیط ہوکر رہ گئی ہے۔

میں یہاں کسی صحافی کو صحافت کا سرٹیفکیٹ دینے کیلئے نہیں بلکہ صرف ایک کڑوا سچ لکھنے اور کہنے کی کوشش کر رہا ہوں ہر گز چند نہ تو میں لکھاری ہوں نہ صحافی نہ قانون و عدل سے میرا کوئی واسطہ ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو ہر عام انسان سے ان تمام چیزوں کا کہیں نہ کہیں بالواسطہ یابلا واسطہ سامنا رہتا ہے پسند و ناپسند کا عنصر صحافت و عدلیہ میں اتنا پروان چڑھ چکا ہے کہ کسی کو بھی کمتر اور کسی کو بھی افضل بنا دینا ہے۔

اکثر اینکر پرسنز اور صحافی حضرات اسی پسند و ناپسند کا شکار نظر آتے ہیں کہ یہاں حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بنانے اور دینے کی فیکٹری لگی دکھائی دیتی ہے۔

یہاں طاقت اور پیسے والے طبقے سے ڈکٹیشن لینے کا کھیل جاری ہے کسی ایک فریق کی محبت بالواسطہ دوسرے کی نفرت کا سبب بن رہی ہے۔ پچھلی دہائی کے مقابلے میں اس دہائی میں ان تمام باتوں کا سب سے بڑا محور سیاست رہی ہے ۔

اپنے چینلز کی TRP بڑھانے کیلئے نہ جانے کیسے کیسے اوچھے ہتھکنڈے اپنائے جارہے ہیں کہ انسانیت شرما جائے۔ کیا صحافت میں “Code of Ethics” نام کی کوئی چیز باقی ہے ؟؟ اگر انصاف ان چینلز پران صحافی حضرات نے ہی کرنا ہے تو پھر عدالتوں کو تالے لگا دینا چاہیئے۔

دو فریقوں کے مابین ہونے والے معاملات میں غیر جانبدرانہ مظاہر ہ کیوں نہیں کیا جاتا ؟؟ کسی کو بھی مجرم یا ملزم قرار دینے والے یہ چینلز کون ہونتے ہیں؟؟ اتنے بے باک اور بے لاگ تجزیئے جو حقائق پر تو کم لیکن کسی کی کردار کشی پر زیادہ فوکسڈ دکھائی دیتے ہیں اور کیا یہ دیکھنے والے نہیں جانتے کہ سوشل میڈیا پر نہ جانے کتنے ایسے صحافی حضرات اور اینکر پرسنز کے کیمرے کے پیچھے کی جانی والی باتیں اور حرکتیں ایک ریکارڈ کا حصہ ہیں ؟؟

کیا صحافتی اور عدالتی نظام سے تعلق رکھنے والے یہ بھول بیٹھے ہیں کہ جھوٹ بول کر کمایا جانے والا پیسہ بھی حرام ہوتا ہے اور وہ اپنے اہل و عیال کو کیا کھلا رہے ہیں ؟؟ خدارا اپنے عمل سے ثابت کیجئے کہ یہاں غیر جانب درای بھی ہے۔

آپ انصاف اور عدل کے سچے پیرو کار ہیں اور سولی پر چڑھ کر بھی سچ ہی بولیں گے ورنہ پیسے کمانے کیلئے ان مقدس پیشوں کے علاوہ بھی کسی پیشے کا انتخاب کیجیئے کیونکہ بقول جالب

دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانا

مت گھبرانہ مت ڈرجانا سچ ہی لکھتے جانا


نوٹ: قلم کار کے ذاتی خیالات اور صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔