کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے عام انتخابات میں بائیکاٹ کرنے کا اشارہ دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کی سیشن عدالت میں رہنما ایم کیو ایم فاروق ستار کے خلاف لاوڈاسپیکر ایکٹ اور کارسرکار میں مداخلت سے متعلق دو مقدمات کی سماعت کے بعد انہوں نے میڈیا سے گفتگو کی۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہم انتہائی کسم پرسی اور غربت کی صورت میں انخابی مہم چلا رہے ہیں مگر شہر سے ہمارے پوسٹر، جھنڈے اور بینرز اتارے جارہے ہیں جبکہ کارکنان کو پولیس کے ذریعے ہراساں بھی کیا جارہا ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ایک طرف ہمارے ساتھ ہونے والے رویہ ہے تو ایم کیوایم پاکستان کی مہم میں تیزی آرہی ہے، انتخابات سے کچھ دن قبل ماحول کچھ اور نظر آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اہل سیاسی جماعت کوئی ہے تو ایم کیو ایم ہے، ہماری طرح کم پیسوں پر کوئی الیکشن لڑکے دکھائے۔
ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ ووٹرز ٹرن آئوٹ کم ہوگا تو دھاندلی کرنا آسان ہوگی۔ ہمارے کارکنان کو گرفتار کیا جارہا ہے ان حالات کے پیش نظر الیکشن کمیشن ایکشن لے۔غریب پارٹیاں کہاں سے اشتہاری مہم کیلئے پیسے لائے گی۔
فاروق ستار کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت کو یہ موقع ہی نہیں دینا چاہئے کہ ہم بائیکاٹ کی طرف جائیں اگر یہی رویہ رہا تو کچھ سوچنا پڑ سکتا ہے البتہ ایم کیو ایم اپنی روایتی نشستوں پر بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی۔ نواز شریف سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انصاف کا تقاضہ یہ ہی ہے کہ عدالتوں میں پیش ہوں۔
ایک سوال کے جواب میں ایم کیوایم رہنما کا کہنا تھا کہ الیکشن سے قبل جو فضا بنائی گئی اُس سے بظاہر لگتا ہے میچ فکس ہے اور نتیجہ پہلے سے طے ہوچکا۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ایک سیلفی کی قیمت پہلے 250 ووٹ تھی، اب سیلفی کی قیمت بڑھا دی گئی ہے۔
اس موقع پر عدالت کی جانب سے فاروق ستار کے خلاف لاوڈاسپیکر ایکٹ اور کارسرکار میں مداخلت سے متعلق مقدمات اور چالان کی کاپیاں فراہم کرتے ہوئے سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔
ایم کیو ایم رہنماؤں کا الیکشن کمیشن کو خط
دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول اور کنور نوید نے سیکریٹری الیکشن کمیشن کو شکایتی خط ارسال کیا ہے جس میں سندھ حکومت اور پولیس پر انتخابی مہم سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کی گیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت پولیس کے ذریعے ایم کیو ایم کی الیکشن مہم کو سبوتاژ کررہی ہے، جگہ جگہ سے ایم کیو ایم کے پرچم اور بینر اتارے جارہے ہیں۔
ایم کیو ایم کے الیکشن کمیشن کو خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کو آزادی حاصل ہے کہ وہ جہاں چاہیں اپنے بینر اور پوسٹر لگا سکتے ہیں۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
