Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ختم نبوت کے قانون میں‌ ترمیم کا اصل ذمہ دار کون ہے؟‌

ختم نبوت کے قانون میں‌ ترمیم کا اصل ذمہ دار کون ہے؟‌

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے فیصلے سے بہت ابہام دور ہوگئے اور اپنے فیصلے میں ختم نبوت کے حوالے سے ترمیم سے الزام کی ذمے داری کسی ایک شخص پر نہیں ڈالی اور نہ ہی کسی فرد کو اس ترمیم کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

انہوں نے اپنے فیصلے میں راجہ ظفر الحق رپورٹ کو بنیاد بنایا۔ راجہ ظفر الحق رپورٹ کی تمام دستاویزات کو فیصلے کے ساتھ منسلک کردیا گیا۔ رپورٹ ان تمام میٹنگز کے مندرجات کی بنیاد پر مرتب کی گئی تھی جس میں پارلیمانی کمیٹی اور سب کمیٹی کے تمام فیصلےموجود ہیں جن کی روشنی میں الیکشن ایکٹ تیار ہوا۔

راجہ ظفر الحق رپورٹ بتاتی ہے کہ الیکشن کمیٹی کی سب کمیٹی جس کی سربراہی وزیر قا نو ن کے پاس تھی اس سب کمیٹی کے 93 اجلاس ہوئے اور سب کمیٹی کے 88 ویں اجلاس میں فارم IX(نو )میں جوکہ کاغذات نامزدگی سے متعلق ہے جس میں ختم نبوت کا بیان حلفی بھی شامل ہے اس میں کچھ ترامیم کی گئیں۔

یہ ترامیم فیصلے کے صفحہ 176 اور 177 میں موجود ہیں۔ فیصلے سے پتہ چلتا ہے کہ سب کمیٹی اور پارلیمانی کمیٹی کے کسی بھی اجلاس میں ختم نبوت ڈیکلریشن کے حوالے سے کوئی ذکر موجود نہیں جبکہ راجہ ظفر الحق رپورٹ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کاغذات نامزدگی کے فارم 9کے علاوہ الیکشن سے متعلق اور بھی کئی فارمز کا جائزہ لیا گیا

سب کمیٹی کے89 ویں اجلاس میں جس کی تفصیلات فیصلے کے صفحہ 196 میں موجود ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ فارم 23 انتخابی اخراجات کے گوشوارے، فارم 27 سیاسی جماعتوں کے اخراجات اور 27 سی سیاسی جما عت کے مرکزی عہدیداروں کے کوائف کے حوالے سے جائزہ لینے کے لئے3 ممبران کو ذمے داری سونپی گئی جن میں انوشہ رحمن، شفقت محمود اور ایس اے اقبال قادری شامل تھے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سب کمیٹی کو کاغذات نامزدگی کا فارم نو جس میں بیان حلفی کی شق موجود ہے جائزہ لینے کی ذمہ داری کبھی نہیں دی گئی۔ فیصلے کے صفحہ 178 پر مذکورہ تین فارمز 23،27 ،27 سی کا ذکر موجود ہے۔

جسٹس شوکت صدیقی کے فیصلے سے کئی ابہام دور ہوگئے ہیں اور صفحہ 181 سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ بیان حلفی کو پرانی شکل میں بحال کرنے کی ترمیم 22 ستمبر 2017 کو سینٹ میں جب حافظ حمد اللہ نے پیش کیا تو سینٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے حافظ حمد اللہ کی تحریک کی حمایت نہیں کی تھی۔ فیصلے کے صفحہ 162 پر کہاگیا کہ پارلیمنٹیرینز کی اکثریت اس معاملے کی نزاکت کو سمجھنے سے قاصر رہی ، جو سینٹ کی 22 ستمبر 2017 کی کارروائی سے عیاں ہے اس وجہ سے کسی ایک فرد ،پارٹی یا گروپ کو ذمہ دار قرار دینا مشکل ہے۔

بشکریہ ڈیلی جنگ 


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔