کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں خاتون کو انٹرنیٹ کے ذریعے ہراساں کرنے والا سرکاری افسر قانون کے شکنجے میں آگیا۔
تفصیلات کے مطابق فیڈرل بی ایریا کی رہائشی شادی شدہ اور بال بچے دار خاتون کو اُن کا پڑوسی گزشتہ کئی روز سے ہراساں کررہا تھا اور اُس کا مطالبہ تھاکہ پڑوسن ویڈیو کال پر روزانہ کئی گھنٹے اُس سے بات کرے۔
خاتون نے ویڈیو کال پر بات کرنے سے انکار کیا تو اُس نے اپنے پاس موجود نازیبا تصاویر شوہر اور والد کو بھیجنے کی دھمکیاں دیں جس پر متاثرہ خاتون نے بات نہ ماتی تو سرکاری افسر نے ایک تصویر بیٹے کو واٹس ایپ کردی۔
خاتون کے شوہر بیرونِ ملک میں ملازمت کرتے ہیں انہوں نے تمام تر صورتحال سے اپنے عزیز و اقارب کو آگاہ کیا اور پھر ایف آئی اے سائبر کرائم میں شکات درج کروائی۔
ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل نے آج دوپہر فیڈرل بی ایریا میں کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم سرکل فیض اللہ کوریجو نے بتایا کہ ملزم کی شناخت شعیب کے نامو سے ہوئی اور وہ خود کو سندھ سیکریٹریٹ کا ملازم بتا تاہے۔
’’شعیب کافی عرصے سے خاتون کو ہراساں کررہا تھا، ملزم کےقبضےسے نازیبا تصویریں،لیپ ٹاپ،موبائل برآمد کرلیں، ایف آئی اےحکام کا کہنا ہےخاتون کاشوہر ملازمت کےلیےملک سےباہرہے، گرفتار ملزم خاتون کو آٹھ سے دس گھنٹے ویڈیو کال پر بات کرنے کے لیے زور دیتا تھا ، متاثرہ خاتون نے ایف آئی اے سائبر کرائم سے رابطہ کیا تو دو روز میں اس کو گرفتار کیا گیا۔
فیض اللہ کوریجو کے مطابق ملزم نے گرفتار ہوتے ہی خاتون کو ہراساں کرنے کا عتراف کیا، اُس کے فیس بک اکاؤنٹ سے بھی کافی مواد ملا جس کی بنیاد پر سائبر کرائم ایکٹ کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔
