کفر کے لبادے میں چھپے مسلم

امریکا کے سابق صدر اوباما کے نائب جوبائیڈن دنیا کے طاقتور ترین ملک کے نائب صدر ہونے کے باوجود بے وقوف ثابت ہوئے، وائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب کے دوران جوبائیڈن کو جب سول اعزاز سے نوازا گیا اور انہیں تقریر کرنے کا موقع دیا گیا تو وہ ڈائس پر آتے ہی رونے لگے۔

اس دوران انہوں نے کپکپاتے لبوں اور رخسار پر بہتے آنسوؤں کے ساتھ اوباما انتظامیہ اور امریکی ریاست کے ساتھ اپنی یادوں کو بیان کیا، جوبائیڈن نے انکشاف کیا کہ اُن کا بیٹا بیو بائیڈن واشنگٹن میں اٹارنی جنرل کی خدمات سرانجام دیتا تھا تاہم کینسر کی تشخیص کے بعد اُس نے ریاست کی امانت واپس کردی تاکہ اس میں خیانت نہ ہوسکے۔ جوبائیڈن نے بتایا کہ بیٹے کا علاج کروانے کے لیے میں نے اہل خانہ سے مشورہ کر کے گھر فروخت کر کے اپنے بیٹے کے علاج کا فیصلہ کیا مگر اس دوران یہ بات بارک اوباما تک پہنچی جنہوں نے مجھے امداد کی پیش کش کی مگر میں نے اُسے مسترد کردیا تاہم بارک اوباما نے گھر فروخت کرنے سے منع کیا اور قرضہ دینے کی پیش کش کی۔

اہل خانہ سے مشورے کےاگلے ہی روز جوبائیڈن نے اوباما کے سامنے قرضہ لینے کی حامی بھری تو انہیں سرکاری خزانے  میں سے قرض کی صورت میں کچھ رقم ادا کردی گئی مگر اتفاق سے 2015 میں اُن کا بچہ جانبر نہ ہوسکا اور وہ دنیائے فانی سے کوچ کرگیا۔

جوبائیڈن نے تکلیف محسوس کرنے اور قرضہ ادا کرنے پر اوباما کا شکریہ ادا کیا اور  گھر فروخت ہونے سے بچایا کیونکہ وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد جوبائیڈن اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اسی مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی نائب صدر نے اپنا قرضہ معاف نہیں کروایا بلکہ وقت مقررہ سے قبل تمام رقم ادا کردی۔

یہی حال کچھ بارک اوباما کا رہا کہ جو دنیا کے طاقتور ترین ملک کا 8 سال تک صدر رہا صرف ایک دستخط پر کیا سے کیا نہ کردیا مگر جب وائٹ ہاوس چھوڑ کر گیا تو کوئی چیز ہاتھ میں نہیں بلکہ پورے امریکا اور اُن کے مخالفین بھی یہ بولتے نظر نہیں آئے کہ انہوں نے سرکاری عہدے کا فائدہ اٹھایا، سادگی تو یہ رہی کہ وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد اوباما بھی اپنے پرانے گھر ہی روانہ ہوئے اور وہ بھی خالی ہاتھ۔

اس کے برعکس مسلم ممالک کا حال ہم سب کے سامنے ہے، بس اس سے زیادہ کچھ تحریر نہیں کرسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں