مجھے کسی سے بھلائی کی اب کوئی توقع نہیں تابش
میں عادتاً سب سے کہہ رہا ہوں ،مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا
اس شعر میں جو ”سب” کا لفظ ہے اُن تمام عظیم رہنماؤں کے لیے ہے جن کے چہرے کل کھل کر سامنے آگئے۔ کل یہ بات بھی سامنے آگئی کہ ”اپنی ذات سے عشق سچا باقی سب افسانے ہیں” پیر کو ہم نیوز کے دفتر پر ہونے والا مظاہرہ کسی عمیر علی انجم کی بحالی کے لیے نہیں تھا۔
یہ ان تمام صحافیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے تھاجو” سیٹھ گردی” اور ”لیڈرگردی” کا شکار ہوچکے ہیں ۔۔۔ہم نے وہاں جاکر آواز بلند کی اور میں حیران ہوں کہ کسی عظیم رہنما کا سایہ تک قریب نظر نہیں آیا۔
”گلہ کریں جنہیں تجھ سے بڑی امیدیں تھیں ۔۔۔ہمیں تو خیر تیرا اعتبار تھا ہی نہیں ”
میرا مظاہرہ کرنے کا ایک بڑا مقصد یہ بھی تھا کہ میں دکھانا چاہتا تھا کہ اپنی نوکری بچانے کی جدودجہد میں مصروف ان عظیم رہنما ؤں کی سوچ صرف اپنی ذات تک محدود ہے۔
یہ ”انا” کے مارے ہوئے لوگ کسی غریب کا غم بانٹنے آہی نہیں سکتے کچھ لوگ تھے جو مجھ سے کہہ رہے تھے کہ تم غلط سوچ رہے ہو، تم سے ان لوگوں کا لاکھ اختلاف صحیح لیکن یہ اب اتنے گئے گزرے بھی نہیں ہیں کہ صرف تمہار ا نام دیکھ کر پیچھے ہٹ جائیں لیکن مجھے پورا یقین تھا کہ وہ نہ صرف اس مظاہرے کی مخالفت کریں گے بلکہ لوگوں کو بھی مجبور کریں گے کہ ہم نیوز کے دفتر جانے سے گریز کریں۔
لیکن میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں اپنے ان ساتھیوں کو جو بلاخوف و خطر میرے شانہ بشانہ اس مظاہرے میں شریک ہوئے اور ان عظیم رہنماؤں کو یہ واضح پیغام دیا کہ اب ان کا وقت گزر چکا ہے۔ میں اپنے ان تمام صحافی بھائی کا شکر گزار ہوں جو مشکل کی اس گھڑی میں اپنے بے روزگار ساتھیوں کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: عمیر علی انجم صحافیوں کا حسن صدیقی قرار
یہ بھی پڑھیں: صحافی اور ”سنی لیون” کی رہنمائی …. تحریر:عمیر علی انجم
ہمیں اللہ کے سوا کسی کی مدد حاصل نہیں۔ ” یااللہ ہم تیرے بندے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں ”
میں اپنے ان تمام دوستوں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے بذریعہ واٹس ایپ ،ایس ایم ایس اور دوسرے ذرائع سے مجھے اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا اور آئندہ کسی بھی لائحہ عمل میں اپنی شرکت کی یقین دہانی کرائی۔
یہ اللہ کا کرم ہے کہ مجھ جیسے عاجز بندے کی بات لوگوں کے دلوں میں اتر رہی ہے۔ میں نے اکیلے جس ”لیڈرگردی” کے خلاف آواز اٹھائی تھی اب اس میں اتنی آوازیں مل چکی ہیں کہ ا س کی گونج عظیم رہنماؤں کو اپنے کان پھاڑتے ہوئے نظر آرہی ہیں۔
