ایم کیو ایم پاکستان کا مطالبہ مسترد، وزیراعظم نے اتحادیوں کو ہری جھنڈی دکھا دی

کراچی: وزیر اعظم پاکستان اور تحریک انصاف نے اپنی اتحادی جماعت کو ہری جھنڈی دکھا دی، تجزیہ نگار کے مطابق مقتدر حلقوں کی وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا۔

معروف تجزیہ نگار جو کراچی اور بالخصوص ایم کیو ایم پر گہری نظر رکھتے ہیں انہوں نے حال ہی میں ایک تجزیاتی رپورٹ شائع کی جس میں بتایا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے وفد کے بارہا دہرائے جانے والے مطالبے کو تحریک انصاف کے سربراہ اور قیادت نے نظر انداز کردیا۔

مظہر عباس کے مطابق وزیراعظم کے دورہِ کراچی ایم کیو ایم کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اُن کے شہر میں تمام بند دفاتر کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ سیاسی سرگرمیاں بحال ہوسکیں۔

وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے تحفظات کو سُن کر یقین دہانی کروائی تھی کہ جلد اس معاملے پر پیشرفت ہوگی تاہم اب خبر یہ ہے کہ مقتدر حلقے یا کراچی آپریشن کی باگ دوڑ سنبھالنے والے شہر میں ایک بار پھر ایم کیو ایم کے دفاتر کھولنے کے شدید مخالف ہیں۔

https://zaraye.com/ali-raza-abidi-father-raise-question/

وزیراعظم کی جانب سے اپنے وزرأ کی تعریف کئے جانے کے باوجود ایم کیو ایم-پاکستان کا مطالبہ ’’ویٹو‘‘ کردیا گیا۔ باخبر ذرائع نے بتایاکہ وزیراعظم کے حالیہ دورئہ کراچی میں ان حلقوں نے بتا دیا کہ وہ ایم کیو ایم کے پرانے انتظامی و تنظیمی ڈھانچے کی بحالی کے مخالف ہیں جس میں دفاتر کا کھولا جانا اور سیکٹرز یا یونٹس کی تشکیل نو وغیرہ شامل ہیں۔

وزیراعظم کو مقتدر حلقوں نے آگاہ کیا ہے کہ اگر ایم کیو ایم کے مطالبے کو تسلیم کیا گیا تو سنی تحریک سمیت دیگر جماعتیں بھی اپنے دفاتر کھولنے کی اجازت مانگیں گی اور پھر شہر کے حالات خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے ایم کیو ایم-پاکستان کو آگاہ کردیا گیا کہ دفاتر کھولنے کے لئے ان کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا تاہم وہ اپنے منتخب بلدیاتی نمائندوں اور ان کے نمائندوں کے ذریعے سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے ایک کلیدی رہنما اور وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم وزیراعظم، ایم کیو ایم-پاکستان اور متعلقہ حلقوں کے درمیان خلاء پرکرنے کے لئے کوشاں ہیں۔

مکمل رپورٹ :ایم کیو ایم پاکستان کا دفاتر کھولے جانے کے لئے مطالبہ ویٹو