کراچی: تحریک انصاف نے سندھ اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے جمع ہونے والی ریکوزیشن پر جعلی دستخط کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے اہم شواہد جاری کردیے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے ریکوزیشن پر جعلی دستخط کا بھانڈا پھوڑ دیا، دس سے زائد اراکین اسمبلی کے دستخط جعلی نکلے، چار اراکین نے ریکوزیشن میں دو مرتبہ دستخط کئے۔
شواہد کے مطابق سادیہ جاوید، گنور اسران، ندا کھوڑو اور فرخ شاہ نے ریکوزیشن پر دو مرتبہ دستخط کئے جبکہ فریال ٹالپر اسلام آباد میں موجود ہیں مگر ان کے بھی ریکوزیشن پر دستخط تھے۔
ذرائع کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق ملک اسد سکندر 25 مئی سے ملک میں موجود ہی نہیں ہیں، ڈاکٹر سہراب سرکی کل ملک میں واپس آئے لیکن دستخط دس جون کو ہوگئے، منور وسان دس جون کو خیرپور میں مظاہرے کی قیادت کررہے تھے لیکن سندھ اسمبلی میں دستخط ہوگئے۔
اپوزیشن لیڈر شمیم نقویٰ نے کہا کہ جعلی دستخط کرنے والے اراکین صادق و امین نہیں رہے، جعلی دستخط کرنے والے اراکین کی رکنیت خارج کرنے کے لئے الیکشن کمیشن جائیں گے۔
ذرائع نیوز کے پاس جعلی دستخطوں کی دستاویزات موجود ہیں، اگر کسی کو ضرورت ہو تو وہ پوسٹ کے نیچے کمنٹس یا پھر ہم سے ای میل پر رابطہ کرسکتا ہے۔
