Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
گرفتاری اور رہائی، جیو کے دو کارکنان کا آپس میں دلچسپ مکالمہ | زرائع نیوز

گرفتاری اور رہائی، جیو کے دو کارکنان کا آپس میں دلچسپ مکالمہ

کراچی: بانی ایم کیو ایم کی لندن میں ہونے والی گرفتاری اور رہائی پر نامور صحافیوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کیا۔

جیو سے وابستہ اور کراچی سے تعلق رکھنے والی علی رضا عابدی شہید کے دوست شہباز زاہد نے اس حوالے سے ایک ویڈیو شیئر کی جو بانی ایم کیو ایم کی جیل سے رہائی کے بعد لندن سیکریٹریٹ پہنچنے کی تھی۔

شہباز زاہد نے مرتضیٰ علی شاہ کی ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے مختصر الفاظ تحریر کیے : ’’پیر صاحب کی واپسی‘‘ ۔ یہ بات جیو کے اینکر جنید خان کو بہت زیادہ ناگوار گزری اور انہوں نے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے جج کا کردار ادا کیا ساتھ ہی بانی ایم کیو ایم کے خلاف فیصلہ سنادیا۔

جنید خان نے لکھا کہ ’’ علی رضا عابدی صاحب کے قتل کو یاد رکھنے لیکن ہزاروں بے گناہوں معصوم شہریوں، ولی بابر اور عمران فاروق کے قتل کو بھلا دینے والوں کے پسندیدہ کی واپسی‘‘

شہباز زاہد نے کافی دیر بعد محمد جنید کو ٹویٹر پر تھریڈ (تفصیلاً) جواب دیا ، جو درج ذیل ہے۔

پہلا ٹویٹ: ’’ جنید بھائی جنید بھائی! کراچی کے واقعات پر ریسرچ میں آپ شاباش کے لائق ہیں۔ مجھے امید ہے یہ ساری باتیں آپ نے دہرائی ہونگی جب آپ خبرنامے میں یہ خبر پڑھ رہے ہونگے کہ ضمانت پر رہائی ہوگئی ہے۔ نہیں؟ کیوں؟ ‘‘

دوسرا ٹویٹ : ’’علی رضا عابدی کے قتل کو یاد رکھنے کی بات میں کسی بھی خبر پر ترجیح دونگا۔ ہزاروں بے گناہ شہری ہم میں سے ہی تھے، کراچی والوں میں سے، جنہوں نے گناہ کیے ان کو سزا ملی بھی ہے اور آگے ملے گی بھی۔ قطع کلامی معاف مگر آپ سے زیادہ دیکھے ہیں کراچی کے حالات و واقعات ‘‘

تیسرا ٹویٹ : ’’ولی بابر ہمارا جیو کا ساتھی تھا۔ آپ تو بخوبی واقف ہونگے کہ جس پروگرام سے میرا تعلق ہے اُس نے کتنی اور کیسی کیسی اسٹوریز کی ہیں تمام معاملات پر، نہیں؟ عمران فاروق کے مبینہ قاتل بھی پکڑے ہوئے ہیں پر کیا ہے کہ کچھ ثابت نہیں ہو پارہا۔ آپ پُش کریں نا کیس کو ‘‘

چوتھا ٹویٹ: ‘‘سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ یہ سب بھلا کیسے دیا گیا؟ یا ایسے ہی آپ نے الزام لگا دیا؟ پسندیدگی اور ناپسندیدگی کا اظہار تو سب کو کرنے کا حق ہیں حالاں کہ ایسا میں نے تو کچھ نہیں کیا ہے پر آپ جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے، کیوں؟ ‘‘

پانچواں ٹویٹ: ’’جہاں سے بات شروع ہوئی تھی تو پیر صاحب کا لفظ تو بہت پرانا استعمال ہوتا آرہا ہے، آپ بھلے کوئی اور لفظ استعمال کرلیں، کون منع کررہا ہے۔ ‘‘

چھٹا ٹویٹ: ’’بس آپ نے وعدہ کرنا ہے اب جب بھی آپ بلیٹن میں پیر صاحب سے متعلق کوئی اسٹوری پڑھیں تو یہ تمام الزامات دھرائیں ضرور تاکہ عوام کو یاد رہے وہ کیا کیا باتیں بھول رہے ہیں۔ اگر لاہور سے کراچی واپس آگئے ہیں عید مناکر تو آکر مل بھی لیں بھائی، ہم کراچی والے عزت کرتے ہیں، کاٹتے نہیں‘‘۔

ساتواں ٹویٹ : ’’ یار، سب سے اہم بات تو رہ ہی گئی۔ عاصمہ جہانگیر الطاف حسین کا کیس لڑرہی تھیں لاہور ہائیکورٹ میں۔ بہت عظیم عورت تھیں ہمارے مُلک کی۔ مجھے امید ہے اِس ہی وجہ سے آپ نے اُن کی تصویر کوور فوٹو کے طور پر لگائی ہوگی۔ زندہ ہوتیں تو آپ والا سوال کرڈالتا اُن سے میں‘‘۔

آٹھواں اور آخری ٹویٹ : ’’ اُس سے بھی اہم بات یہ کہ آپ نے الطاف حسین کی وکیل کی کوور فوٹو لگائی ہوئی ہے جبکہ میں نے آپ سمیت دیگر دوستوں کی‘‘

یاد رہے کہ محمد جنید کو بانی ایم کیو ایم کے حامیوں نے بھی جوابات دیے تھے جس پر وہ خاموش نظر آئے۔

الطاف حسین کے خلاف ناکامی شواہد، لندن پولیس کی تفتیش مکمل، بانی ایم کیو ایم رہا