سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے درمیان اس قدر شدید جھگڑا ہوا کہ اسپیکر کو سیکیورٹی طلب کرنا پڑ گئی۔
تفصیلات کے مطابق صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں بجٹ سے متعلق گفتگو جاری تھی کہ جمعیت علماء اسلام ف کے سینیٹر مولانا عطا الرحمان نے اجازت ملنے کے بعد اظہار رائے شروع کیا۔
انہوں نے وزیراعظم کی گزشتہ دنوں کی جانے والی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے عمران خان پر توہین کا الزام عائد کیا جس پر حکومتی اراکین نے شدید احتجاج کیا اور وہ اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے۔
عطاء الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ذاتی زندگی پر کبھی بات نہیں کی، میرا ریکارڈ دیکھ لیں کبھی ذاتی شخصیت یا غیر اخلاقی بات نہیں کرتا البتہ یہ موضوع ایسا ہے جس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اس طرح کی باتیں ایوان میں نہیں ہوں گی، اسی دوران حکومتی اوراپوزیشن ارکان ایک دوسرےپرحملہ آور ہوئے تو چیئرمین سینیٹ کی سارجنٹ ایٹ آرمز کو مداخلت کرنے کی اپیل کی۔
تحریک انصاف کے سینیٹر نعمان وزیر نے اپوزیشن ارکان اور بالخصوص سینیٹر رضا ربانی پر حملہ بھی کیا جس پر حزب اختلاف کے سینیٹرز بھی اپنی نشستوں سے غصے میں کھڑے ہوگئے۔ بگڑتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسپیکر نے کل تک اجلاس ملتوی کردیا۔
