کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے کے ڈی اے (کراچی ڈیلوپمنٹ اتھارٹی) کے ملازم سمیت 50 سے زائد لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی اور سیکریٹری دفاع، چیف سیکریٹری خیبر پختون خوا اور محکمہ داخلہ سندھ سمیت متعلقہ حکام کو نوٹسز جاری کیے۔
سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے ملازم سمیت 50 سے زائد لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کی تو لاپتہ افراد کے اہل خانہ عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے دہائیاں دیں۔ ل
اپتہ شخص کی اہلیہ نے بتایا کہ میرا شوہر 6 سال سے لاپتہ ہے، اب بچے بھی بڑے ہوگئے ہیں، میرے شوہر کو سر عام بازار سے ڈبل کیبن میں ڈال کر لے گئے تھے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ پولیس لاپتہ افراد کی خواتین کو بار بار عدالت میں بلا لیتی ہے تو رینجرز کیوں ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی جو لوگوں کو سر عام لوگ اٹھاتے ہیں۔
عدالت نے رینجرز وکیل سے استفسار کیا کہ لوگوں کو تفتیش کیلئے آپ کہاں رکھتے ہیں۔ رینجرز وکیل نے بتایا کہ ہم پہلے 90 دن تک تفتیش کیلئے رکھتے تھے لیکن اب وہ اختیار نہیں، ہم تفتیش کرکے یا تو پولیس کے حوالے کرتے ہیں یا چھوڑ دیتے ہیں۔
وکیل نے بتایا کہ کراچی یا سندھ سے لاپتہ افراد رینجرز کے پاس نہیں ہیں، عدالت نے پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے سیکریٹری دفاع، چیف سیکریٹری کے پی، محکمہ داخلہ سندھ سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
