Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
کراچی:‌ ایک لاکھ کے جانور کی خریداری پر ٹیکس دینا ہوگا | زرائع نیوز

کراچی:‌ ایک لاکھ کے جانور کی خریداری پر ٹیکس دینا ہوگا

کراچی میں لگنے والی ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی کی تیاریاں شروع ہوگئیں اور بیوپاری اپنے جانور بھی لانا شروع ہوگئے۔

حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ چالیس ہزار تک کے جانور پر کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا البتہ ایک لاکھ یا اُس سے زائد رقم پر نان فائلر سے ٹیکس لیا جائے گا اور رقم کی ادائیگی نقد کے بجائے کیش سے ہوگی۔

ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام منڈی کے خارجی راستوں پر موجود ہوں گے جو خریدے ہوئے جانوروں کی گاڑیاں چیک کریں گے اور خریدار اگر نان فائلر ہوا تو اُس سے چار فیصد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس وصول کریں گے۔ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایک لاکھ تک کے جانور کی خریداری پر ذرائع آمدن بھی بتانا ہوں گے جبکہ نقد کے بجائے رقم کو چیک یا پے آرڈر کی صورت میں ادا کیا جائے گا۔

بیوپاریوں نے حکومتی فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ سودے کے وقت گاہک سے بھاؤ تاؤ ہوتا ہے، رقم کم زیادہ ہوتی اور چیک کی صورت میں رقم ادائیگی کی ذمہ داری کون لے گا۔ بیوپاری مویشیوں کی خریداری پر چیک سے لین دین پر یقین نہیں رکھتے اسی باعث انہوں نے حکومت سے تحفظات کا اظہار کیا۔

اگر حکومت نے یہ پالیسی ختم نہیں کی تو قربانی کا مذہبی فریضہ انجام دینے میں لوگوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ منڈی میں مویشی کی خرید وفروخت کے موقع پر سودے بازی ہوتی ہے اور بیوپاری بھاری نقد رقم طلب کرتا ہے، اگر حکومت نے مویشی کی خریداری میں بینک کے چیک کو در میان میں رکھا تو بیوپاریوں کو کڑوڑوں روپے کا نقصان ہوگا اور قیمتی مویشی کی فروخت بھی مشکل ہوجائے

گی،لوگوں کا کہنا ہے کہ شہر میں مقامی انتظامیہ نے 8 مقامات پر مویشی منڈیاں لگانے کی اجازت دی ہے ، لیکن سپرہائی وے مویشی منڈی کے علاوہ کسی مویشی منڈی میں بینک کی سہولت موجود نہیں ہوتی، جبکہ مویشی کی بڑے پیمانے پر خریداری نوجوان کرتے ہیں وہ کس طرح ان مراحل کو طے کرسکیں گے،حکومت نے اب مویشی کی خریداری میں فائلرز اور نان فائلرز کا بھی اہم کردار بنا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق 40 ہزار کے مویشی کی خریداری معمول کے مطابق نقد رقم پرہوگی۔

جانور کی خریداری رقم کا تعین کیسے ہوگا اور ٹیکس کی رقم کیسے ادا کرنا ہوگی؟

مویشی منڈی کے داخلی راستوں پر ایف بی آر کی ٹیم بیٹھے گی اور تمام ٹرکوں میں موجود مویشیوں کو نمبر دے کر مالک کے حساب سے ان کی قیمت سسٹم پر لکھ لے گی، جیسے اگر مالک نے کوئی جانور چار لاکھ کا بتایا تو سسٹم پر وہ چار لاکھ کا ہی ہوگا اور خریدار نے چاہے اسے کم دام میں بھی خریدار ہو مگر اُسے چار لاکھ کے حساب سے ہی ٹیکس دینا ہوگا۔

ٹیکس کی وصولی کیلئے انسپکٹرز مویشی منڈی کےخارجی راستوں پر موجود ہونگے جو احکامات پر عملدرآمد کرائیں گئے، اس صورتحال میں مویشیوں کی خرید وفروخت کی سر گر میاں منجمد پڑنے کا خطرہ ہے۔

اقدام اٹھانے کا مقصد

ایف بی آر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نان فائلرز کی تعداد سامنے آجائے گی اور پھر اُن کے گرد گھیرا تنگ کی جائے گا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام اس بات سے بھی باخبر ہیں کہ اب چالیس ہزار روپے میں بکرا بھی دستیاب نہیں جبکہ گائے کی کم از کم قیمت بھی 80 ہزار روپے ہے۔

ٹیکس کلکولیشن

مثال کے طور پر اگر کسی خریدار نے 88 ہزار روپے مالیت کا جانور خریدار تو اسے انکم ٹیکس کے -/3،520 جبکہ ود ہولڈنگ کے عوض 6،820 روپے ادا کرنا ہوں گے یوں جانور کی قیمت دس ہزار بڑھ کر 98 ہزار سے زائد پہنچ جائے گی۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قربانی کے معاملے میں ٹیکس کے معاملے کو ختم کریں وگرنہ فرزندان اسلام فریضہ ادا کرنے سے رہ جائیں گے۔

سہراب گوٹھ کے علاوہ لگنے والی منڈیاں

شہر قائد میں سہراب گوٹھ کی مرکزی منڈی کے علاوہ دیگر 8 مقامات پر بھی منڈیاں لگائی جاتی ہیں، سہراب گوٹھ آنے والے بیوپاریوں میں سے اکثر کا تعلق بیرونِ شہر سے ہوتا ہے جبکہ دیگر منڈیوں میں بیٹھے زیادہ تر فروخت کنندہ کراچی سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔