Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
ٹیکنو کریٹ حکومت کا شوشا چھوڑا گیا، الیکشن نظر نہیں آ رہے:عمران | زرائع نیوز

ٹیکنو کریٹ حکومت کا شوشا چھوڑا گیا، الیکشن نظر نہیں آ رہے:عمران

لاہور،اسلام آباد : چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ے کہا کہ مجھے ابھی الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے ، حکومت سے زیادہ پیچھے بیٹھے لوگوں کا الیکشن کے لیے راضی ہونا ضروری ہے، ٹیکنوکریٹ حکومت لانے کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے جسے عوام قبول نہیں کرینگے ، اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں، آئندہ عام انتخابات میں پولیٹیکل ا نجنیئرنگ کی گئی تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے، مشرقی پاکستان میں سب سے بڑی جماعت کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا گیا تھا،ملک میں استحکام کا واحد حل شفاف انتخابات ہیں۔

لاہور پریس کلب کی نومنتخب گورننگ باڈی اور سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پی ڈی ایم صرف ڈرائنگ روم کی جماعت بن کر رہ گئی ہے،جنرل (ر) باجوہ نے اس ملک پر بڑا ظلم کیا،ہم ڈیفالٹ کے قریب کھڑے ہیں ، جنرل (ر) باجوہ سے ہماری حکومت کے اچھے تعلقات رہے مگر ان کے نزدیک سیاست دانوں کی کرپشن بے معنی تھی، میں جنرل (ر) باجوہ کو سمجھاتا رہا کہ کرپشن بڑا مسئلہ ہے، ان کے سسر کی کرپٹ ٹولے سے دوستیاں تھیں ، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مفادات پاکستان سے نہیں تو ان سے میثاق معیشت کیسے کریں ، ہماری حکومت میں 5فیصد دیوالیہ کا خطرہ تھا جو اب 90فیصد ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ، سٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات خراب نہیں تھے لیکن آخر میں آکر قمر جاوید باجوہ کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے، ا سٹیبلشمنٹ کا نام جنرل باجوہ تھا اور انہوں نے میرے خلاف لابنگ کر ائی ، امریکہ کو یہ تاثر دیا گیا کہ جنرل باجوہ امریکہ کے حامی اور میں امریکہ مخالف ہوں ، افغانستان سے بات چیت نہ کی گئی تو ملک میں دہشت گردی کی لہر میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے عمران سے ملاقات کی،سبطین خان نے عمران کوپنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماداوردیگرامورپربریفنگ دی ،پنجاب اسمبلی میں تحریک اعتماد ، پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی ارکان کی حالیہ تعدادسے آگاہ کیا،ملاقات میں 11جنوری سے قبل اعتماد کا ووٹ لینے کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔

تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کی پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس کے معاملہ پر عمرا ن نے ارکان کو مشترکہ اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی جبکہ پارلیمانی لیڈر عثمان بزدار کو حاضری یقینی بنانے کے حوالے سے ٹاسک سونپ دیا گیا ، مونس الٰہی کو بھی ق لیگ کے 10ارکان کی حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ذرائع کےمطابق حاضری کی بنیاد پر وزیراعلی کے اعتماد کے ووٹ کی تاریخ کا فیصلہ کیاجائے گا ۔

ذرائع کے مطابق عمران نے اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ،عمران نے جنوری کے پہلے ہفتے میں بنی گالہ جانے کا ارادہ کیا ہے اور اس ضمن میں انہوں نے پارٹی قیادت کو بھی بنی گالہ آنے سے متعلق آگاہ کر دیا ہے۔