Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
میچ نہ جیتنے کا افسوس ہے , سرفراز احمد | زرائع نیوز

میچ نہ جیتنے کا افسوس ہے , سرفراز احمد

کراچی: نیوزی لینڈ کیخلاف دوسرے ٹیسٹ میں سنچری اسکور کرنے والے وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد نے کہا ہے کہ اگر میچ جیت جاتے تو بہت خوشی ہوتی،ہوم گراؤنڈ پر سینچری اسکور کر کے اچھا لگا، بابر براعظم ہی قومی کپتان ہیں، ان کو بھرپور سپورٹ کرنا ہوگی، ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کے لیے چار برس کا انتظار کرنا پڑا، کھلاڑی اپنی فٹنس اور فارم کی بدولت ٹیم میں جگہ بناتا اور چالیس برس تک کھیل سکتا ہے،آخری سیشن میں اگر سعود شکیل یا سلیمان علی آغا وکٹ پر ٹھہر جاتے تو پاکستان فتح سے ہمکنار ہوسکتا تھا۔

نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرا ٹیسٹ ڈرا ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انیوں نے کہا کہ چار سال کا عرصہ مشکل تھا، ٹیم میں شامل رہا لیکن کھیلنے کا موقع نہیں مل رہا تھا، تبدیلوں کے بعد چیف سلیکٹر اور سابق ٹیسٹ کپتان شاہد آفریدی نے ہمت بندھائی اور کپتان بابر اعظم نے حوصلہ دیا ،طویل انتظار کے بعد کیریئر کی چوتھی ٹیسٹ سنچری کے ساتھ بہترین انفرادی اسکور کرنے پر خوشی ہوئی لیکن پاکستان جیت جاتا تو اچھا لگتا،ایک موقع پر پاکستان فتح کے دہانے پر پہنچ چکا تھا،کھیل کے آخری سیشن میں وکٹیں بچانا بھی بہت ضروری تھ،
اگر سعود شکیل یا سلیمان علی آغا وکٹ پر ٹھہر جاتے تو ہم ہدف کو پانے میں کامیاب ہوسکتے تھے، ہوم گراؤنڈ پر جیت کی خواہش تھی،مشکل وقت میں ساتھی اور کئی صحافی حوصلہ بڑھاتے رہے ،سابق ٹیسٹ کپتان معین خان،کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے اونر ندیم عمر اور منیجر و کوچ اعظم خان نے ہمیشہ حوصلہ بڑھایا،ہم سلو نہیں کھیلے بلکہ سیشن بائی سیشن کھیلنے کی کوشش کی،آخری سیشن میں جیت کی طرف جانے کی کوشش کی تھی لیکن ایسا نہ ہوسکا، سینچری اسکور کرنے پر اعزازی بورڈ پر اپنا نام لکھنا اچھا لگتا ہے،بظاہر یہ لگتا ہے کہ پاکستان دفاعی کرکٹ کھیلتا ہے لیکن ٹیسٹ کرکٹ سے سیشن بائی سیشن کا کھیل ہے، انگلینڈ کی ٹیم کا اپنا انداز ہے، ہر ٹیم اس کو فالو نہیں کرسکتی

انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کا بھی اپنا انداز ہے،تاہم بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے، پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی بھی بہتر ہوئی ہے قومی ٹیم میں متعدد باصلاحیت نئے کھلاڑی آئے ہیں، امید ہے کہ وہ مستقبل میں پاکستان کے لیے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے، میں نےماضی میں اپنے کیریئر کے دوران متعدد اچھی اننگز کھیلیں لیکن کراچی میں ٹیسٹ کیریئر کی بہترین اننگ کھیلی۔