کراچی: مہاجر قومی موومنٹ کے چئرمین آفاق احمد نے گورنر سندھ کی جانب سے ان کی پارٹی کو ایم کیو ایم پاکستان میں ضم کرنے کی درخواست قبول کرنے سے معذرت کرلی۔
انہوں نے کہا کہ مہاجروں کے حقوق عضب کرنے کیخلاف ہونے والی حلقہ بندیوں، سندھ اور مہاجر قوم کے مشترکہ مفادات کے لئے بیٹھنے کو تیار ہوں۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے مہاجر قومی موومنٹ کے چئرمین آفاق احمد سے ان کی رہائیشگاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال خصوصا کراچی میں بلدیاتی انخابات اور ایم کیو ایم کے انضمام سے متعلق گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں میں تیس منٹ سے زائد ون ٹو ون گفتگو رہی۔
ون ٹو ون ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کامران ٹیسوری نے کہا کہ سیاسی حوالے سے آفاق احمد سے بات ہوئی۔ ملکی اور خصوصا صوبے کی سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ سیلاب زدگان اور ملکی معیشت کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔ میں آفاق احمد کے پاس آیا ہوں، آج ان کے ساتھ چائے پیؤں گا اور حلیم بھی کھاؤں گا۔ گورنر سندھ نے کہا کہ شہر قائد میں بجلی گیس کا بحران ہے۔ میں نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد سب کو ایک ساتھ اکٹھا کرنے کا عزم کیا ہے۔ آج میں ان کے پاس آیا ہوں اور کچھ گذارشات رکھی ہیں۔ گذشتہ روز خالد مقطول صدیقی سے ملاقات ہوئی۔
گورنر سندھ نے اپنی بات چیت کا شعر پر اختتام کیا، جس پر مہاجر قومی موومنٹ کے چئرمین آفاق احمد نے کہا کہ ہماری سمت درست ہے اور ہم اس پر ہی قائم ہے۔ میرا تعلق مہاجر قومی موومنٹ سے ہے اور میرا مہاجر لفظ سے دستبردار ہونے پر اختلات ہوا تھا۔
آفاق احمد نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی شاید میری بات کو سمجھ نہیں پائے، میں نے حلقہ بندیوں کے حوالے سے ان کی بات سے اتفاق کیا ہے انضمام سے متعلق میں نے پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی معذرت کررہا ہوں۔ سندھ اور مہاجر قوم کے مشترکہ مفادات کے لئے بیٹھنے کو تیار ہیں لیکن اپنے موقف سے ہٹ نہیں سکتے۔ مہاجروں کے حقوق غضب کرنے کیخلاف حلقہ بندیوں کے حق میں کھڑا ہوں۔ میں انضمام میں شامل نہیں ہوسکتا جس کاز کے لئے ہم نے اتنی قربانیاں دیں ہیں اسے کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔
ایک سوال کے جواب کامران ٹیسوری نے کہا کہ فواد چوہدری کچھ بھی کہتے رہیں میں کچھ نہیں بولونگا، ان کے ستارے گردش میں ہیں، البتہ عمران خان سے کہتا ہوں کہ وہ بھی ان سے دور رہیں۔ رہی بات سعید غنی کی تو وہ بھائی ہیں ان سے بھی پوچھ لونگا کہ انہوں نے کس کو کیا کہا ہے۔
شہر کی موجودہ صورتحال پر پوچھے گئے سوال پر کامران ٹیسوری نے کہ میں نے وفاقی حکومت سے پہلے بھی بات کی تھی اور اب بھی کرونگا، شہر قائد میں افغانیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد خوفناک ہے۔ اسٹریٹ کرائم کی واردتیں صرف مارنے کے لئے کی جارہی ہیں۔ افغانیوں کو باڈر پر روکنا ہوگا۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ آفاق احمد نے اسٹریٹ کرائم میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو 25 لاکھ دینے کا مطالبہ کیا ہے میں کہتا ہوں انہیں 30 لاکھ دینے چاہئے۔
