اسلام آباد،لاہور: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہےکہ امریکی جنگ میں شامل ہونے سے پاکستان کا نقصان زیادہ ہو اورمعاوضہ معمولی ملا، اگر نیوٹرل رہتے تو حالات بہت بہتر ہوتے، امریکی جنگ کے اثرات ابتک پاکستان میں موجود ہیں۔سرحدوں کی ذمہ داری وفاقی حکومت کی ہے،خیبرپختونخوا پولیس کالعدم ٹی ٹی پی سے نہیں لڑسکتی، مذاکرات کافیصلہ تمام سٹیک ہولڈرزنے کیا تھا۔ جب تک بیٹھ کر بات نہیں کرینگے دہشتگردی نہیں رکے گی۔تحریک انصاف اور خیبرپختونخوا حکومت کے زیر اہتمام دہشتگردی کے عنوان پر اسلام آباد میں قومی سیمینار سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے، بروقت نہ نمٹا گیا تو اسکے منفی اثرات مرتب ہونگے، اگر یہ جنگ چل پڑی تو سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا کا ہوگا، ہمیں عقل سے چلنا پڑیگا، وفاقی حکومت کو بیٹھ کر اس معاملہ پر مسلسل میٹنگز کرنی چاہئیں۔
سیمنار میں وزیر اعلیٰ پختون خواہ محمود خان ،سابق وزیر دفاع پرویز خٹک ،تحریک انصاف کے رہنماء مراد سعید ،شہریار افریدی ،سینیٹر شبلی فراز ، عمر ایوب شریک ہوئے۔عمران خان نے خطاب میں کہاکہ کیا وجہ تھی کہ ماضی میں پاکستان کو دہشتگردی کیخلاف جنگ میں حصہ دار بنایا گیا، ہم 20 سال تک امریکی جنگ کا حصہ رہے۔پرویز مشرف نے نائن الیون کے بعد سیاسی جماعتوں کے سربراہا ن کو مدعو کیا اور بتایاکہ ہم امریکہ کی صرف لاجسٹک سپورٹ کرینگے۔ نائن الیون کے واقعہ میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا، میرا ہمیشہ سے موقف رہا کہ امریکہ کی جنگ میں نہیں پڑنا چاہئے لیکن میرے موقف کے بعد مجھے برا بھلا کہا گیا، تنقید کی گئی اور طالبان خان کہا گیا۔ ہمارے قبائلی علاقے سب سے پرامن سمجھے جاتے تھے، قائد اعظم نے 1948ء میں قبائلی علاقے سے فوج واپس بلائی اور کہا کہ قبائلی علاقے ہماری فوج ہیں وہاں فوج کی ضرورت نہیں۔
انہو ں نے کہاکہ افغان جنگ پاکستان کے قبائلی علاقے سے لڑی گئی جب امریکہ افغانستان آیا تو مجاہدین دہشتگرد قرار دیئے گئے۔ تحریک طالبان پاکستان امریکہ کی مدد کرنے پر ہمارے خلاف ہوگئی۔ امریکی انخلا کے بعد پاکستان کے پاس افغانستان کیساتھ دوستی کا سنہری موقع تھا، افغانستان میں پہلی بار پاکستان حامی حکومت آئی، ہمارے دور میں افغانستان کی نئی حکومت سے اچھے تعلقات تھے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ نقصان خودکش حملوں سے ہوا۔ امریکہ کے پاس بھی خود کش حملے روکنے کا طریقہ کار نہیں تھا۔ افغانستان میں مختلف گروپس لڑ رہے تھے، ہمارے دشمنوں نے بھی موقع سے فائدہ اٹھایا اور کارروائیاں کیں، ہم نے اشرف غنی حکومت سے تعلقات بہتر کرنے کی بہت کوشش کی۔
عمران کاکہناتھاکہ طالبان اور اشرف غنی حکومت کے درمیان سیاسی حل نکالنے کیلئے کردار ادا کیا۔ تحریک طالبان پاکستان میں 35 سے 40 ہزار لوگ شامل ہیں۔ ٹی ٹی پی کے پاس 5 ہزار لوگ لڑنے والے ہیں۔ افغان طالبان نے ٹی ٹی پی سے کہا واپس جائیں، طالبان نے ٹی ٹی پی پر دباؤ ڈالا۔ فاٹا کاانضمام سیاسی کوششوں سے ممکن ہوا، حکمرانوں نے کیا کیا؟ فاٹا کو انضمام کے بعد صوبوں نے 3 فیصد بجٹ دینے کا اعلان کیا، پنجاب اور خیبرپختونخوا نے پیسے دیئے باقی دونوں صوبوں نے انکار کردیا۔ فاٹا بہت پیچھے تھا وہاں پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت تھی مگر ہمارے پاس نہیں تھا اور ن لیگ کی وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے فنڈز روک دیئے حالانکہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں فیصلہ ہوا تھا فاٹا کو زیادہ فنڈز دینے ہیں۔
