اسلام آباد : ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف تحریک انصاف کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن فیصلے کیخلاف پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کر دی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے الیکشن کمیشن فیصلے کیخلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر محفوظ سنایا،چیف جسٹس عامر فاروق،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل بینچ نے فیصلہ سنایا،پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کو چیلنج کیا تھا۔
بینکنگ کورٹ اسلام آباد نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے انہیں شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا۔
بینکنگ کورٹ میں عمران خان کی عبوری ضمانت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،عمران خان کے وکیل کی جانب سے عدالت میں پیشی کے لیے میڈیکل گراؤنڈ پر 2 ہفتے کا وقت دینے کی استدعا کی گئی۔ اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے عمران خان کی درخواست ضمانت مسترد کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ نومبر میں پیش آئے واقعہ کے بعد سے عمران خان سیاسی معاملات چلا رہے ہیں۔
عمران خان سیاسی معاملات چلا رہے ہیں مگر عدالت میں پیش نہیں ہوتے لہذا عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کی جائے۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ تفتیش کرنا تفتیشی افسر کا کام ہے،عدالت کوئی ہدایت نہیں دے گی۔ تفتیشی افسر جسے اور جہاں چاہے تفتیش کرنا چاہتا ہے تو عدالت مداخلت نہیں کرے گی۔ عدالت نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کی، جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی سے زمان پارک میں تفتیش کرنے کی استدعا مسترد کی۔
بینکنگ کورٹ نے عمران خان کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا اور قرار دیا کہ کچھ بھی ہو یقینی بنائیں عمران خان ہر حال میں تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوں،عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں توسیع کی۔اس سے پہلے بھی بینکنگ کورٹ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں عمران خان سمیت دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں توسیع کی تھی۔
