کراچی : آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی پر اظہارِ عدم اعتماد کیا گیا ہے۔آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان تیکنیکی مذاکرات آج تیسرے روز بھی جاری رہے ، تکنیکی مذاکرات مکمل ہونے پر پالیسی مذاکرات کا آغاز ہو گا۔
مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف نے ڈسکوز کے 100 فیصد بلوں کی وصولی میں ناکامی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ڈسکوز کی طرف سے بجلی کے بلوں کی وصولی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آئی ایم ایف کا کہناہے کہ 100 فیصد بلوں کی وصولی اور حکومتی کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنائے بغیر گردشی قرض کا خاتمہ ممکن نہیں
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری ہیں، پاکستان میں کرپشن کی روک تھام اور مؤثر احتساب کا معاملہ زیرِ غور ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ٹاسک فورس کے قیام سے متعلق وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے، ٹاسک فورس کے قیام کے لیے جنوری 2023ء کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔
ٹاسک فورس کا مقصد نیب سمیت اینٹی کرپشن محکموں کے فریم ورک پر نظرِ ثانی ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے کرپشن کے کیسز کی تحقیقات کے لیے ان اداروں کو زیادہ مؤثر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔آئی ایم ایف نے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران اور ان کے اہلِ خانہ کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔آئی ایم ایف کے مطالبات کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اثاثوں تک رسائی کے لیے گائیڈ لائنز جاری کی جائیں گی۔
اس حوالے سے اسٹیٹ بینک، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور ایف بی آر مل کر کام کریں گے۔
