کراچی: احتساب عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما و سابق وزیر داخلہ رؤف صدیقی کیخلاف محکمہ سندھ اسمال انڈسٹری میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق ریفرنس نیب کو واپس بھجوا دیا۔
کراچی کی احتساب عدالت کے روبرو محکمہ سندھ اسمال انڈسٹری میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ رہنما ایم کیو ایم رؤف صدیقی ودیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔
احتساب عدالت نے روف صدیقی و دیگر کیخلاف نیب ریفرنس واپس نیب کو بھیج دیا۔
رؤف صدیقی کے وکیل شوکت حیات ایڈوکیٹ نے دلائل میں کہا تھا کہ نیب قوانین میں ترمیم کے بعد ریفرنس احتساب عدالت کے دائر اختیار میں نہیں آتا۔ سماعت کے بعد رہنما ایم کیو ایم روف صدیقی نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ 4 برس میں صرف ایک دفعہ سماعت کی گٸی۔ تمام بھرتیاں عین قانون اور میرٹ کے مطابق ہوٸی ہیں، بورڈ کے متفقہ فیصلے کے مطابق پورے سندھ میں کی گٸیں تھیں۔
سندھ ہاٸیکورٹ نے ضمانت کی اپیل پہ کہا کہ یہ پورا مقدمہ بدنتی پر مبنی ہے۔ اس فرماٸشی مقدمے کی وجہ سے میرا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا، جب کے وزارتِ قانون ہماری تھی اور بے ۔
صرف یہ ہی نہیں بلکہ میرے خلاف سارے مقدمات جھوٹ اور بدنیتی پر بناٸے گٸے تاکہ میری ساکھ کو خراب کیا جاسکے لیکن عزت ساری کی ساری اللہ کی ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ میرے خلاف ریفرنس میں نیب کے تفتیشکاروں نے کرپشن کا کوٸی الزام نہیں لگایا۔
سندھ ہاٸیکورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں لکھا کہ یہ ملازموں کو دی جانے والی تنخواہوں سے قومی خزانے کو کیسے نقصان پہنچ سکتا ہے۔
