یار طاہر ۔۔۔جلدی چلے گئے ۔۔ یاد ہے پچھلی ملاقات پر ہم نے کیا کیا ارادے باندھے تھے کیا کیا سوچا تھا ۔
طاہر نجمی کو ایک مشترکہ کتاب لکھنے کی خواہش تھی جس میں ہم دونوں اپ ے تجربات تحریر کرتے کہ صحافت کیا پے ۔
وہ لابنگ کی صحافت سے بہت عاجز تھا کہتا تھا تمھیں تمھارے دوست کاٹ کے پھینک دیں گے میں ان کو اچھی طرح جانتا ہوں ۔ اس نے کبھی یہ کوشش نہیں کی کہ ایکسپریس سے آگے دیکھے اسے خوف آتا تھا کہ لوگ اسے اپنے مفاد کی صلیب پر قربان کردیں گے ۔
میرا اور طاہر نجمی کا ساتھ برے دنوں کا ساتھ تھا ۔۔۔مارشل لاء میں مزاحمتی سیاست کا ۔
روزنامہ امن میں صحافت کا جو مارشل لاء کی آنکھوں میں بہت کھٹکتا تھا ۔۔طاہر نجمی نے یہ ساتھ خوب نبھایا ۔ پھر ٹریڈ یونین اور کلب کی سرگرمیوں میں زبردست سرگرم رہا۔۔۔۔
بعد میں ہم جب مختلف اداروں میں ہوگئے تو پھر بھی آفس جاتے ہوئے ڈرگ روڈ کے سگنل یا راشد منہاس روڈ پر گاڑیاں ساتھ ساتھ اجاتی تھیں اور ملاقات ہوجاتی تھی۔
طاہر تم تکلیف میں تھے اب آرام کرو ۔ اب منافق دنیا بھی تمھارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔۔۔ جعلی کامریڈوں سے تمھیں نجات مل ہی گئی ۔۔۔۔
چلو ملتے ہیں کبھی نہ کبھی ۔۔۔ڈرگ روڈ کے سگنل پر یا کہیں اور ۔
نوٹ : یہ دلخراش تحریر معروف صحافی ناصر چغتائی صاحب کی ہے، جو انہوں نے کمنٹس کی صورت کراچی پریس کلب کے سابق سیکرٹری رضوان بھٹی کی پوست پر کی۔
