حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے معروف سینئر صحافی ادریس بختیار طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کرگئے وہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔ ادریس بختیار کو تین روز قبل طبیعت ناسازی کے بعد قومی ادارہ برائے امراضِ قلب کے اسپتال لایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے انہیں طبی امداد فراہم کی تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔ اہل خانہ نے اُن کے انتقال کی تصدیق کردی جبکہ اُن کی میت کو ایدھی سرد خانے منتقل کیا گیا، مرحوم کا نمازِ جنازہ بعد نمازِ فجر گلشن اقبال 13 ڈی وسیم باغ مسجد میں ادا کی گئی۔
صحافت کا درخشندہ ستارے کے مانند پڑ جانے پر سب ہی افسردہ ہیں، صحافیوں اور سیاسی شخصیات نے ادریس بختیار کے انتقال کو بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس خلا کو پورا کرنا ناممکن ہوگا۔
ادریس بختیار نے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز حیدر آباد سے کیا تاہم جلد ہی کراچی منتقل ہوگئے تھے، وہ طویل عرصے تک برطانوی نشریاتی ادارے سے وابستہ رہےاور کئی نامور اخبارات میں کام کرچکے تھے۔
صحافتی کیریئر کے دوران انہوں نے متعدد سانحات رپورٹ کیے جن میں سانحہ قصبہ علیگڑھ ، وزیراعظم طیارہ ہائی جیکنگ، صدر بم دھماکا، کراچی میں ہونے والی سیاسی قتل و غارت گری اور ریاستی آپریشن پر رپورٹ کی۔ اپنے بے بکانہ انداز سے واقعات کو قارئین تک پہنچانے والے ادریس بختیار نے قومی اخبار سمیت متعدد مقامی اخبارات میں کام کیا اس کے علاوہ بین الاقوامی اخبارات میں بھی انہوں نے اپنی صحافت کو زندہ رکھا، انہوں نے بی بی سی اور جیو (جنگ گروپ) کے لیے بھی خدمات انجام دیں۔
آئ ایس پی آر کے چیف جھوٹ بولتے ہیں ۔میڈیا پر ایسی پابندیاں کھبی نہ تھیں۔اتنا بتا دیں کہ پی ٹی ایم کی آخری خبر کہاں چھپی۔سینیر صحافی ادریس بختیار۔@a_siab @Aliwazirna50 @PashtunTM_Offi @GulBukhari pic.twitter.com/WhDgf5gY9W
— Abid Khurshid (@Sardarabidk) May 6, 2019
