کراچی: پاکستان کی تاریخ کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کا آغاز آج (یکم مارچ)سے ہورہاہے 76برسوں میں پہلا موقع ہوگا کہ پاکستان میں خانہ و مردم شماری دس سال کےمقررہ وقت سے پہلے ہورہی ہے ڈیجیٹل مردم شماری کے تحت ہر اسٹرکچر کی جیو ٹیگنگ ہوگی خانہ و مردم شماری کا تمام ریکارڈ اور اندراج روزانہ کی بنیاد پر خودکار نظام کے ذریعے کیاجائے گا ،گھر گھر آنے والے شمار کنندگان ٹیبلٹ اور سافٹ ویئر کے زریعے سوالات کے جوابات کا اندراج کرینگےپہلے 15روز ہر شمارکنندہ ایک شماریاتی بلاک میں گھروں اور سروں کو گنے گا اور دوسرے پندرہ روز میں دوسرے شماریاتی بلاک میں خانہ و مردم شماری کی جائے گی سندھ کے 30یونیو اضلاع میں 43ہزار 838سینسز بلاکس بنائے گئے ہیں ۔
ہر شماریاتی بلاک 250سے 300گھروں پر مشتمل ہے ٹیبلٹ کے زریعے شمار کنندگان قریبا 25سوالات کے جوابات کا اندراج کرینگےپہلی مرتبہ خانہ و مردم شماری میں خصوصی افراد کی معذوری کی اقسام،خواجہ سراوں کے بارے میں معلومات کے ساتھ معاشی ضرورتوں سے متعلق بھی معلومات جمع کرینگے جو کہ پاکستان میں پہلی معاشی مردم شماری کی جانب پیشرفت ہوگی۔
سینسز کمشنر سندھ رفیق احمد برڑو کے مطابق سندھ میں 28ہزار 706شمار کنندگان کو ڈیجیٹل مردم شماری کے لیے تربیت دی گئی ہے کراچی میں 10ہزار 709 سینسز بلاکس ہیں جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی خانہ و مردم شماری کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں پاکستان کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کے دوران آنے والے شمار کنندگان شہریوں سے کسی قسم کی دستاویز کا تقاضہ نہیں کرینگے جن غیر قانونی مقیم تارکین وطن یا غیر ملکیوں کے پاس شناختی دستاویز نہیں ہوگی ان کو الگ شمار کیاجائےگا۔وفاقی ادارہ شماریات نے سندھ میں مردم شماری کے سلسلے میں تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ بھی اجلاس کیے ہیں اور یکم مار چ سے بیک وقت سندھ بھر میں مردم شماری کا آغاز ہوگا ۔
وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق سندھ کے جن دور افتادہ اضلاع میں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہ ہوئی یا کنیکٹیویٹی میں مشکلات آئیں وہاں شمار کنندگان شہریوں سے معلومات لیکر اندراج کرسکیں گے اور ان کے ٹیبلٹ میں محفوظ کرسکیں گے اور انٹرنیٹ کی سہولت میسر آتے ہی وہ ڈیٹا مرکزی سافٹ ویئر میں درج ہوجائے گا مردم شماری کے دوران سیکورٹی پر پولیس مامور ہوگی جبکہ فوج اور رینجرز کی بھی معاونت حاصل ہے ادھر پاکستان کی پہلی ڈیجیٹل خانہ و مردم شماری کو شفاف بنانے اور شمارکنندگان کی تصدیق کے لیے بھی وفاقی ادارہ شماریات نے نظام مرتب کیاہے شمار کنندگان کی تصدیق وفاقی ادارہ شماریات کے آن لائن ریکارڈ سے بھی کی جاسکے گی ۔
مردم شماری کے لئے مرتب کیے گئے سوالنامے کے حوالے سے بھی مقامی سطح پر لوگوں کے ذہنوں میں غیر ضروری اور غلط سوالات کھڑے کیے جاتے ہیں وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق خانہ و مردم شماری میں جمع کی گئی معلومات کسی طور پر بھی شہریوں کے خلاف استعمال ہوگی نہ کوئی ایسے سوالات پوچھے گئے ہیں جو ان کی ذاتی و کاروباری زندگی پر اثرانداز ہوں مردم شماری کے زریعے حکومت شہریوں کے لیئے ہر علاقےکی بنیاد پر پانی بجلی جیسی بنیادی ضروریات کی منصوبہ بندی کرسکتی ہے تعلیمی اداروں اسپتالوں کے قیام سے لیکر آبادی کی بنیاد پر روزگار کی فراہمی اور دیگر معاشی سرگرمیوں کے لیے جامع منصوبہ بندی کرسکتی ہے ۔
