Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
خڑ کمڑ واقعہ، انتظامیہ کی پی ٹی ایم سے معافی، قبائلی روایت کے مطابق دنبہ پیش | زرائع نیوز

خڑ کمڑ واقعہ، انتظامیہ کی پی ٹی ایم سے معافی، قبائلی روایت کے مطابق دنبہ پیش

شمالی وزیرستان کے علاقے میں واقع خڑ کمڑ چیک پوسٹ پر پیش آنے والے واقعے کے بعد پی ٹی ایم نے خیبرپختونخواہ کے مختلف علاقوں میں دھرنا دیا۔ پشتون تحفظ موومنٹ کی رہنما اور کور کمیٹی کی رکن ثناء اعجاز نے بتایا کہ فیصلہ کُن دھرنے کا آغاز ہوگیا اور جب تک پانچ مطالبات پورے نہیں ہوتے تب تک ہم اپنا مظاہرہ ختم نہیں کریں گے۔

انہوں نے اپنے مطالبات کی فہرست پیش کرتے ہوئے بتایا کہ : ’’ علی وزیر سمیت تمام پی ٹی ایم کارکنان و ہمدردوں کی رہائی، شمالی وزیرستان میں کرفیو کا خاتمہ اور زخمیوں و ہلاک شدگان کی امداد، وزیرستان سے فوج کا انخلاء اور معاملات سول انتظامیہ کو سونپنا، سینیٹ اراکین کی تحقیقاتی کمیٹی بنانا جو خڑکمڑ واقعے کی آزدانہ تحقیقات کرے، شمالی وزیرستان میں دیے جانے والے دھرنے پر من وعن عمل کیا جائے‘‘۔

بنوں اور کوئٹہ میں اس سے پہلے مظاہرے جاری تھے جبکہ پی ٹی ایم سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بھرپور طریقے سے واقعے کو اجاگر کررہی ہے کیونکہ نیشنل میڈیا پر اُن کے مؤقف کو آنے پر ایک غیر مرئی طاقت روک لیتی ہے۔

دھرنے کو کئی گھنٹے گزرے جس کے بعد جرگے کے فیصلے پر ضلعی اور مقامی انتظامیہ نے دھرنے کے شرکاء سے معافی مانگتے ہوئے اپنی غلطی تسلیم کی اور قبائلی رسم ’’ننواتے‘‘ کے مطابق منتظمین کو چار دنبے پیش کیے۔

پی ٹی ایم نے قبائلی رسم کے تحت معافی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے دھرنے کو عید تک ملتوی کرنے کا اعلان کردیا جبکہ وزیرستان سمیت دیگر علاقوں میں حالات بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہیں تاہم موبائل سروس ابھی تک معطل ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں بتایا جارہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے گرفتاری کےلیے محسن داوڑ کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا البتہ وہ موجود نہیں تھے۔

https://twitter.com/RasoolDawar/status/1133949760807800834