Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
احفاظ الرحمان صحافت کا درخشندہ ستارہ : آمریت کے خلاف مزاحمت کا استعارہ | زرائع نیوز

احفاظ الرحمان صحافت کا درخشندہ ستارہ : آمریت کے خلاف مزاحمت کا استعارہ

کراچی سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اور اساتذ استاد احفاظ الرحمان 78 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔

آپ کئی عرصے سے علیل تھے اور چند روز قبل نجی اسپتال میں زیرعلاج تھے، گزشتہ شب آپ نے آخری ہچکی کے ساتھ دنیا کو الوداع کہا اور اپنی تمام پریشیانیوں کو شکست دی۔

احفاظ الرحمان کا شمار ان موثر آوازوں میں ہوتا تھا جنہوں نے صحافت کو تابندہ رکھنے کے لیے ہر قسم کا دباو برداشت کیا مگر سرنگو نہ ہوئے۔

آپ یادوں کے وہ انمٹ نقوش چھوڑ گئے جنہیں فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

احفاظ الرحمٰن کا شمارملک میں حقوق انسانی جمہوریت اور آزادی صحافت کیلئے جدوجہد کرنے والے کلیدی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے ملک میں فوجی اور جمہوری ہر طرح کی آمریت کے خلاف آواز بلند کی اور اس پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔انہوں نے اخبار جہاں روزنامہ مساوات روزنامہ جنگ اور روزنامہ ایکسپریس میں اہم صحافتی ذمہ داریاں ادا کیں۔ وہ کارکنوں

کے حقوق کی ہر جدوجہد میں صف اول میں رہے اور کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ احفاظ الرحمٰن 4 اپریل 1942 کو جبل پور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے سوگواران میں بیوہ ایک بیٹا اور بیٹی چھوڑی ہے۔ جنرل ضیاء اور جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ دور میں انہیں آزادی صحافت کی جدوجہد کی پاداش میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جنرل ضیا کے دور میں آزادی صحافت کی جدوجہد پر ان کی کتاب سب سے بڑی جنگ کا اجرا 2015 میں ہوا تھا۔انہوں نے چین میں بھی 16 سال کا عرصہ گزار اور ثقافتی انقلاب کے دوران بیجنگ میں فارن لینگویجز پریس میں کام کیاتھا۔ احفاظ الرحمًن زمانہ طالب علمی میں این ایس ایف سے وابستہ تھے۔وہ کچھ عرصہ قبل گلے کے کینسر کی وجہ سے آواز سے محروم ہو گئے تھے اور بولنے کیلئے صوتی آلے کا استعمال کرتے تھے۔