تحریر:سیدمحبوب احمدچشتی
1951ء میں پہلی بار لفظ (مہاجر) کو سرکاری سطح پر استعمال کیا گیا
زندہ ہے مہاجر زندہ ہے مہاجر۔مہاجروں کادل کاچین۔۔۔؟ شیشہ نہیں فولاد ہیں مہاجرکی اولاد ہیں۔غور سے سن لے اہل جہاں اب مہاجر نہ رک پائے گا۔جیسے نعرے تو ہم برسوں سے سنتے آرہے ہیں لیکن مہاجر ہونے پر جب جب دائرہ تنگ ہوا اور مہاجروں کو یہ کہاگیا کہ مہاجرنہیں پاکستانی بنو مہاجر واپس کیمپوں میں جانے کے لیئے ہوتا ہے حیران کن اگر پاکستان کی تاریخ دیکھیں تو تمام صوبے لسانیت کی بنیاد پر ہی بناگئے ہیں ورنہ اگر یہ نہ ہوتا تو آج تمام صوبوں کے نام صرف(پاکستان) رکھے جاتے لیکن بنیاد ہی لسانیت پررکھی گئی تو مہاجرہونے پرفخر کرنا میری مجبوری نہیں بلکہ میرے لیئے قابل فخراعزازوگوہرنایاب ہے مہاجر
جی ہاں! مہاجر پاکستان کی متنازع ترین شناخت رہی ہے جنہیں ہر دور میں جغرافیائی تاریخ اور کسی بھی علم کے بغیر بدنام کیا گیا اور اُس قوم نے نظریاتی میدان میں اپنی بڑی پہچان بنائی وہ لوگ جو پندہ یا بیس کے درمیان ہے اُن سے جب یہ سوال ’تم خود کو مہاجر کیوں کہتے ہو’ پوچھا جائے تو وہ جواب دیتے وقت بے حد جذباتی ہوجاتے ہیں اور تاریخی حقائق سے قائل کرنے کے بجائے مذہبی شناخت کے ساتھ اپنے آپ کو جوڑ لیتے ہیں۔ وہ جواب جھوٹ پر مبنی اور تاریخ کو مسخ کرتا ہے کہ ’ٹھیک ہے پھر تم واپس جائے جہاں سے آئے تھے۔
اسی سے متعلق یہ بھی پڑھیں: مہاجر لفظ سرکاری سطح پر پہلی بار کب استعمال ہوا؟ ثبوت بمعہ دستاویزات
پاکستان کی آزادی کے بعد 1951ء میں پہلی بار اتفاق رائے سے محکمہ خزانہ کا قلمدان ملک غلام کو سونپا گیا جو پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے ماتحت اپنے امور سرانجام دے رہے تھے اس کے علاوہ اُس وقت محکمہ رائے شماری کے سربراہ بھی آصف باجوہ تھے۔یہ وہ وقت تھا جب پہلی بار لفظ (مہاجر) کو سرکاری سطح پر استعمال کیا گیا اور اس نام سے بالخصوص اُن لوگوں کو مخاطب کیا جاتا تھا جو بھارت سے پاکستان آئے جنہیں یہاں آکر کوئی شناخت نہیں ملی اور نہ ہی پاکستان میں کوئی مقام دیا گیا اور اگر دیا بھی گیا تو سازشی عناصر نے ان مہاجروں کو کاموں کو مختلف طریقوں سے روڑے اٹکائے گئے جو یہ بات کہتے ہیں کہ مہاجرنمائندوں اور وزیروں نے حکومت میں شریک رہے تو ان عقل کے اندھوں کے لیئے یہی کہا جاسکتا ہے۔
مہاجروں کی شناخت وپہچان ایم کیوایم حکومت میں ”شریک“ رہی ہے ایم کیوایم کی حکومت کھبی نہیں رہی ہے نہ کھبی ایم کیوایم کا وزیراعلیٰ آیا خیر مہاجروں کو پاکستانی بننے کا مشورہ دینے والے پنچابی۔سندھی۔بلوچی۔پختون بھائی یہ بھول جاتے ہیں کہ کاش وہ لسانیت کی بنیاد پر صوبے نہ بناتے بلکہ ان صوبوں کوصرف (پاکستان) کا نام دیتے لیکن افسوس ناک پہلو یہ سامنے لایا جاتا ہے کہ مہاجر کچھ نہیں ہوتا پاکستانی بنو مہاجر ہی اصل پاکستانی ہیں شناخت مٹی کے بیٹوں یعنی مقامی افراد کے درمیان فرق کو ظاہر کرتی تھی، لفظ مہاجر یا شناخت اُن لوگوں پر بطور طنز کسا جاتا تھا جنہیں 1947ء کے بعد کوئی شناخت نہیں دی گئی تھی مہاجروں نے بھارت میں موجود املاک کو حکومت پاکستان کے سامنے کلیم کیا جیسا انہیں ہجرت کے وقت بتایا گیا تھا،آپ نے پہلے ہی مختلف بیانات قومی ٹیلی ویژن یا اسمبلی کے فلور پر سنے ہوں گے جو مہاجر مخالفت کا واضح عکاس تھے، اس خطے میں اس لفظ کو کوئی مطلب بھی نہیں مل سکا
جبکہ یہ سوال بھی بہت عام ہے کہ آپ ابھی تک مہاجر کیسے؟ جبکہ آپ کے والدین ، باپ دادا نے بھارت سے ہجرت کی؟ہمارے اجداد کو یہاں بطور پاکستانی تسلیم نہیں کیا گیا اور عام شہریوں کے مقابلے میں ہمیں علیحدہ نام سے پکارا گیا، یہ وہی نام ہے جس کا اطلاق 1951ء سے شروع ہو۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
