Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
پاکستان میں‌ اصل حکمرانی کس کی ہے؟ | زرائع نیوز

پاکستان میں‌ اصل حکمرانی کس کی ہے؟

ملکی سیاست میں فوج کا کردار اور نواز شریف

پاکستان میں جمہوریت ہے، ارے نہیں نہیں یہاں تو آمریت ہے، تم لوگ جھوٹ بولتے ہو یہاں اسلامی نظام ہے، صاحبو پاکستان کا یہ حال ہے کہ ہمیں کچھ سمجھ آتا کہ ہمارے ملک میں نظام کونسا چل رہا ہے، المیہ یہ ہے کہ ہم نے نہ ٹھیک سے جمہوریت کو نافذ کیا اور نہ آمریت اور رہی بات اسلامی نظام کی تو یہ دور خلافت کے علاوہ کبھی نافذ ہی نہیں ہوا اور یہی وجہ ہے کہ آج ہم ایک کنویژ نظام میں  رہ رہے ہیں، جہاں ہر کچھ ملاوٹ شدہ ہے جس ملک کی بنیاد ہی سیکیولر اور اسلامی نظریات کی جنگل میں پھنس جائے وہ ملک پھر اسی طرح چلتا ہے جس طرح پاکستان کو چلایا جارہا ہے۔

پاکستان میں حکمرانی کس کی ہے، ہمیں آج تک یہ بھی سمجھ نہیں آیا  کتابوں میں پڑٖھ رکھا تھا  کہ  جو ملکی وزیر اعظم اور صدر ہوتے ہیں وہ ملک کے سربراہ تصور کیے جاتے ہیں، لیکن جب کتاب بند کی ہم عملی طور پر پاکستان کی صورت حال دیکھی تو حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی، یہاں کے وزرا اور صدر مملک تو نام کے حکمران ہوتے ہیں لیکن اصل میں حکمرانی کہیں اور سے ہورہی ہوتی ہے، سیانے کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک کے اندر اگر یہ جاننے ہو کہ حکومت کس کی ہے تو یہ دیکھ لو کہ اس ملک میں  کس کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، اس مقولے کو دیکھتے ہوئے ہمیں اب یہ دیکھنا ہوگا کہ پاکستان میں کس کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں ہم سب جانتے ہیں کہ وہ مقدس گائیں کون ہیں۔

ہمارے تمام بڑے فیصلے جی ایچ کیو میں ہوتے ہیں ملک چلانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ اپنا کردار ادا کرتی ہے، جبکہ وزیر اعظم اور صدر کو ملک میں اسکینڈل کے طور پر استعمال ہونے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے اور ان کے خلاف سازش کرنے والے بھی یہی لوگ ہوتے ہیں، لیکن فیصلے اگر فوجی ہیڈ کوارٹر سے ہوں تو یہ بھی مسئلے کی بات نہیں المیہ یہ ہے کہ جی ایچ کیو میں بھی فیصلے وہ ہوتے ہیں جو ہمارے ابو کہتے ہیں، ابو سے مراد آپ بھی جانتے ہوں گے کہ بات کس کی ہورہی ہے جی ہاں بالکل آپ ٹھیک پہنچ امریکا تک۔

ایسے میں نواز شریف کا یہ بیانیہ کہ ممبئی حملے میں پاکستان کے کالعدم تنظیم کے عسکریت پسند لوگ ملوث تھے اور کیسے وہ بارڈر پار کر کے دوسرے ملک جاسکتے ہیں اور یہ حملہ کر سکتے ہیں، ممبئی حملوں کے خلاف راولپنڈی کی عدالت میں جاری کیس کا فیصلہ ہونا چاہیے، اس میں ایسے کوئی بات نہیں جس سے یہ تاثر دیا جائے کہ بھائی یہ بیان ملک غداری ہے۔

انہوں نے جو بات کہی حقیقت کہی کیوں کہ جب آپ ایک منتخب وزیر اعظم کو چند مہینوں میں فیصلہ سنا کر گھر بھیج سکتے ہیں تو 26 نومبر 2008 میں ہونے والے حملے کا  فیصلہ اب تک کیوں نہیں آسکا، اور نواز شریف کا یہ بیان کوئی اچمبے کی بات نہیں ایسے بیان ماضی میں بھی دیئے جاتے رہے ہیں، گذشتہ دور حکومت میں اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا  تھا کہ ممبئی حملے میں پاکستان کے عسکریت پسند لوگ ملوث ہیں جن کا ہمیں علم ہے اور ماسٹر مائنڈ کو پکڑنے کے لیے حکمت عملی بھی تیار ہے، ناصرف یہ بلکہ سابق مشیر قومی سلامتی کے جنرل محمود درانی بھی اقرار کر چکے ہیں کہ اس حملے میں پاکستان سے لوگ ملوث ہیں، لہذا اب اگر ایسے بیانات پر نواز شریف کو غدار قرار دیا جاتا ہے تو رحمان ملک بھی غدار ہوں گے اور جنرل محمود بھی ان سمیت دیگر وہ سیاسی قائدین جو کیمرے کی غیر موجودگی میں پاکستان کے ملوث ہونے کا اقرار کرچکے ہیں انہیں بھی غدار قرار دینا چاہیے۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایسے نظام سے نکلیں جو عوام کی جانب سے تیار کردہ ہے جس میں  انسان اپنے  مفادات دیکھتا ہے، اپنے لیے من پسند قوانین تیار کرتا ہے اور امریکا کا آلہ کار بن جاتا ہے، لہذا نبوت کے طرز پر دوبارہ خلافت کے قیام کی ضرورت ہے جس میں قوانین اللہ کے ہوں اور انسان اپنی مرضی سے قانون سازی شے مبرا ہو۔

تعارف: عبد المصطفیٰ جامعہ کراچی کے شعبہ ذرائع ابلاغ کے طالب علم ہیں اور وہ ملکی سیاست پر بری گہری نظر رکھتے ہیں۔


کالم نگار کی ذاتی رائے کا ادارتی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں جبکہ صارفین کے کمنٹس بھی اُن کی اپنی ذمہ داری ہے۔