Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کے ڈی ملازمین تنخواہوں وپنشن سے محروم، | زرائع نیوز

کے ڈی ملازمین تنخواہوں وپنشن سے محروم،

(رپورٹ:سید محبوب چشتی)

سندھ حکومت 20کروڑ 40 لاکھ کی گرانڈ بھیگ کی طرح دے رہی ہے جبکہ ادارے کے اخراجات 60 کروڑ 80 لاکھ روپے ہیں، ایک ارب سے زائد اخراجات کی رقم کو نظر انداز کردیا گیا۔

کراچی ڈوپلیمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے ملازمین تنخواہوں اور پنشن سے محروم ہیں ، سندھ حکومت کی جانب سے ملنے والی گرانڈ ہے یا بھیگ ہے۔ ادارہ ترقیات کراچی میں ملازمین وپنشرز دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔

ذرائع کے مطابق کے ڈی اے میں موجودہ ضرورت 26کروڑ80لاکھ کی بنتی ہے جس میں17کروڑ تنخواہوں کی مد میں،7کروڑ70لاکھ پنشن کی مد میں جبکہ سی پی فنڈ 2کروڑ،بجلی کابل 50لاکھ سے زائد،30لاکھ پٹرول کی مد میں دیے جارہے ہیں۔ جبکہ کل اخراجات کی رقم  26کروڑ 80لاکھ بنتے ہیں۔

سندھ حکومت کی جانب سے 20کروڑ 40لاکھ کی طرح دینے کاتاثر یوں قائم ہوا کہ کے ڈی اے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی دوماہ سے ممکن نہیں ہوسکی جبکہ پنشن کے حقدار پنشرز بھی اسی صورتحال کاشکار ہیں۔

ہرماہ ملازمین وپنشریز ساتویں منزل پر واقع ڈائریکٹر فنائس 18گریڈ کے افسرسعید خان کے کمرے کاچکرلگاکر مایوس ہوکرواپس ہوجاتے ہیں، ملازمین وپنشرز کےڈی اے ایمپلائز یونین ۔سی بی اے ودیگر یونینز کے پاس جاتے ہیں اور نتیجہ ملازمین کے احتجاج کی صورت میں نکلتا ہے۔

اہم ذرائع کے مطابق کے ڈی اے میں موجود سی بی اے میں اختلاف کی خبریں گردش کررہی ہیں مخالف گروپ کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں صرف استعمال کیاجارہاہے ہمارا کوئی نہیں ہوتا کے ڈی اے کے ملازمین اور پنشنرز نے مطالبہ کیا ہے کہ ہماری تنخواہیں اور پنشن جلدازجلدادا کی جائے۔

پریشان حال ملازمین نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں انہیں بروقت تنخواہیں ادا کی جائیں تاکہ ہمارے اخراجات بھی بروقت پورے ہوسکیں۔


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔