ہائی کورٹ نے اقتصادی مشاورتی کونسل میں قادیانی رکن عاطف میاں کی شمولیت کے خلاف درخواست گزار کو دلائل کی تیاری کیلئے مہلت دے دی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے اقتصادی مشاورتی کونسل میں قادیانی رکن عاطف میاں کی شمولیت کے خلاف شہری حافظ احتشام احمد کی درخواست کی سماعت کی۔
درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ وزیراعظم کی جانب سے اقتصادی مشاورتی کونسل کی تشکیل غیر آئینی ہے ۔ جسٹس عامر نے پوچھا کہ کس بنیاد پر غیر آئینی ہے؟درخواست گزار نے جواب دیا کہ وزیراعظم نے کونسل میں قادیانی رکن ڈاکٹر عاطف میاں کو شامل کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن کیخلاف درخواست سماعت کیلیے مقرر
معزز جج نے استفسار کیا کہ کیا آئین میں غیر مسلموں کے حوالے سے ایسی کوئی پابندی ہے؟جواب میں درخواست گزار نے کہا کہ آئین میں غیر مسلموں کے حوالے سے ایسی کوئی پابندی نہیں تاہم قادیانیوں کی حیثیت تھوڑی مختلف ہے کیونکہ قادیانی آئین میں اپنی مذہبی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے، اس لیے جو شخص آئین کو تسلیم نہ کرے وہ ایسے کسی عہدے پر نہیں آسکتا۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ آپ کا الزام ہے کہ وہ آئین کو نہیں مانتے؟مطمئن کریں کہ کونسل کی تشکیل اور غیر مسلم کی شمولیت کیسے آئین کے خلاف ہے جس پر درخواست گزار نے عدالت سے اس نکتے پر دلائل کے لیے مزید وقت مانگتے ہوئے کہا کہ مجھے وقت دیں میں مزید تیاری کر لیتا ہوں پھر کورٹ کو مطمئن کروں گا۔
عدالت نے پٹیشنر کی استدعا منظور کرتے ہوئے تیاری کا وقت دے دیا اور سماعت ملتوی کردی۔
