راولپنڈی: سابق وفاقی وزیر داخلہ اور مسلم لیگ ن کے سابق رہنما چوہدری نثار نے کہا ہے کہ نوازشریف کو جو مشورہ دیا وہ مان لیتے تو آج اس طرح کی صورتحال کا سامنا نہیں ہوتا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ مجھے اقتدار کا کوئی لالچ نہیں اس لیے ہمیشہ اپنے ضمیر کی ہی آواز سنی، اقتدار ہو یا اپوزیشن ہمیشہ عزت کے ساتھ ہی ایوان میں رہا۔
اُن کا کہنا تھا کہ آج اقتدار میں نہیں ہوں مگر ہر قدم اپنےحلقےکی عوام کیساتھ ہوں اور میرا ووٹرز سے رشتہ کوئی نہیں توڑ سکتا۔سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ احتساب کے سلسلے کو حکومت نے خود متنازع بنایا، نیب ایک خود مختار ادارہ ہے اگر اُسے آزادی کے ساتھ کام کرنے دیا جاتا تو آج صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔
چوہدری نثار نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’’ آپ سب کو چور اور ڈاکو سمجھتے ہیں، ہر ایک شخص کا احتساب سیاست سے بالاتر ہوکر ہونا چاہیے، حمزہ شہباز کی گرفتاری کا معاملہ حکومت نے خود متنازع بنایا اب انہیں اپنے آپ کو احتساب کے عمل سے دور کرنا ہوگا۔
چوہدری نثار کا مزید کہنا تھا کہ میں ایسا کوئی کام نہیں کرتا جو میرے ضمیر پر بوجھ ہو، مجھے ووٹ دینے والے اطمینان رکھیں ان کے ساتھ دونمبری نہیں ہوگی، اقتدار میں نہیں مگر ہر قدم اپنے حلقے کی عوام کے ساتھ ہوں، ہمیشہ ضمیر کی آواز سنی اقتدار کا لالچ نہیں ہے، اقتدار ہو یا اپوزیشن ہمیشہ عزت کے ساتھ رہا، کسی عہدے کا امیدوار نہیں ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میں پہلے بھی کہتا رہا ہوں کہ اس ملک کو بہت سنجیدہ خطرات کا سامنا ہے،ہم ان خطرات سے بے خبر ہیں۔ سات ارب روپے روزانہ قرض لے کر ملک چلا رہے ہیں، یہ قرضوں کا گرداب ہے مگر سب اسی طرح چل رہے ہیں۔
چوہدری نثار علی کا کہنا تھا کہ میرا عمران خان کو مشورہ ہے کہ خدا کے واسطے غیر روایتی وزیراعظم بنیں، ذمہ داری عمران خان اور ان کی ٹیم کی ہے، قوم کو سہانے خواب نہ دکھائیں، نواز شریف کو بھی مشورہ دیا تھا لیکن انہوں نے نہیں مانا۔
