Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
ملازمت کی لالچ، عرب ممالک جانے والی پاکستانی لڑکیوں سے جسم فروشی کروانے کا انکشاف

ملازمت کی لالچ، عرب ممالک جانے والی پاکستانی لڑکیوں سے جسم فروشی کروانے کا انکشاف

اسلام آباد: نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) نے گزشتہ برس دنیا کے مختلف ممالک سے ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانیوں کے اعداد و شمار کی رپورٹ جاری کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2018 کے دوران مختلف ممالک میں کام کرنے والے 80 ہزار پاکستانی مزدوروں کو بے دخل کیا گیا، ان میں سے آدھی تعداد کو سعودی عرب سے بے دخل کیا گیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بیرونِ ملک بھیجنے کے نام پر پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کا کام بہت تیزی سے جاری ہے اور اس مافیا کے خلاف اقدامات کرنے کے ایف آئی اے کو اختیار حاصل نہیں ہیں۔

این سی ایچ آر کی رپورٹ کے محقق غلام محمد نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے اپنی رپورٹ میں ایسے 50 پاکستانیوں کا انٹرویو کیا ہے جنہیں غیرقانونی طریقے سے بیرونِ ممالک بھیجا گیا، اُن سے ایجنٹس نے رقم مکمل لی اور لالچ بھی دی تاہم وہاں جاکر انہیں معلوم ہوا کہ وہ غیر قانونی طریقے سے پہنچے جس کے بعد گرفتاری بھی ہوئی۔

انکشاف یہ بھی سامنے آیا کہ پاکستان کی نوجوان لڑکیوں کو اچھی ملازمت کا جھانسہ دے کر مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک بھیجا جاتا ہے اور پھر اُن سے وہاں پر جسم فروشی کا کام لیا جاتا ہے۔

’’ ایسی خواتین وطن واپس نہیں آتیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ جسم فروشی کے بعد انہیں اہل خانہ سمیت کوئی قبول نہیں کرے گا، وہ اپنی زندگی بہت کرب کے ساتھ بیرونِ ملک میں گزارتیں اور کچھ تو اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیتی ہیں‘‘۔

https://www.dawnnews.tv/news/1102070/

ایک اور رپورٹ میں یہ بھی بڑا انکشاف کیا گیا کہ پاک-ایران سرحد پر واقع تافتان کے علاقے سے سب سے زیادہ انسانی اسمگلنگ کی جاتی ہے جہاں ایف آئی اے کی چیک پوسٹ موجود ہے مگر وہاں روک تھام کے کوئی اقدامات نہیں ہیں۔