کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سانحہ بلدیہ فیکٹر کی سماعت ہوئی۔
دوران سماعت پولیس گواہ سب انسپیکٹر نے اپنا بیان قلم بند کرایا اور مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا کہ آتشزدگی کے بعد جائے وقوعہ سے کپڑے اور دیگر اشیاء کو اکھٹا کر کے انہیں فرانزک ٹیسٹ کے لیے کراچی یونیورسٹی بھیجا گیا۔
https://zaraye.com/baldia-factory-case-another-witness/
گواہ نے بتایا کہ کیمیکل ایگزامین کے لیے فیکٹری کی بالائی منازل سے اشیاء حاصل کی گئیں تھیں۔ جج نے بیان قلم بند کرنے کے بعد عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پرکرنے کا حکم جاری کیا۔
https://zaraye.com/baldia-town-factory-case/
یاد رہے کہ سانحہ بلدیہ کیس میں گزشتہ تین سماعتوں سے سنسنی خیز انکشافات کا سلسلہ جاری ہے، 10 اپریل کی سماعت پر بھی عینی شاہد ملزم سامنے آیا جس نے ہولناک انکشاف کیا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سانحہ بلدیہ کیس میں اہم پیشرفت اُس وقت سامنے آئی کہ جب تفتیشی افسران نے پرڈکشن مینیجر کو بطور گواہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا۔
