حیدرآباد: سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے ڈیجیٹل مردم شماری کے خلاف احتجاجی دھرنوں کا اعلان کردیا۔
اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس میں قادر مگسی نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ مردم شماری کراچی کی آبادی کو تین کروڑ دکھانے اور سندھ پر ڈاکا ڈالنے کیلیے ایم کیو ایم کی ایماں پر کی جارہی ہے جس پر ہمیں اعتراض ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں 80 فیصد نمائندگی سندھی بولنے والوں اور بیس فیصد نمائندگی اردو بولنے والے سندھیوں کی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں ڈیجیٹل مردم شماری پر اعتراض ہے، قادر مگسی سال 2017 میں مردمشماری ہوئی اور ہر دس سال بعد ہونی ہوتی ہے، ایسی بھی کیا آفت آگئی کہ پانچ سال بعد مردم شماری کی جارہی ہے جبکہ اس وقت سندھ کے متعدد علاقے سیلاب سے متاثر اور مکین بے گھر ہیں، مردم شماری کو متنازع بنانے کی تیاری کی جارہی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ لاکھوں گھر پانی میں بے گئے ہیں، ایسے میں متاثرین کا شمار کیسے ممکن ہوگا، ڈیجیٹل مردم شماری پر ہمیں خدشات اور تحفظات ہیں کیونکہ سندھ میں پہلے ہی پچاس ہزار تارکین مقیم ہیں جنہیں اس مردم شماری کے بعد سندھ کا مستقل شہری بنایا جائے گا پہلے انہیں یہاں سے بے دخل کیا جائے۔
قادر مگسی نے مردم شماری کو سندھ اور سندھ کے شہریوں کیخلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے ہم سے ہمارا وطن چھینے کی کوشش کی جارہی ہے، مردم شماری کے فارم میں عارضی اور مستقل شہری اندراج کے خانوں کو بھی شمار کیا جائے اور افغانوں کو پہلی فرصت میں اُن کے گھروں کو واپس بھیجا جائے۔
سندھ ترقی پرنس پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ڈیڑھ کروڑ سیلاب متاثرین گھروں میں نہیں ہیں تو کیسے تعداد ممکن ہوگی، سندھ میں سیلاب کیوجہ سے بے روزگار نوجوانوں کی تعداد پچاس لاکھ سے تجاوز کرگئی ہیں جبکہ پی پی نے صوبے کو گھنڈر بنادیا اور متاثرین کی امداد کے پیسے ہڑپ کرگئی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنوانے کیلیے یہ مردم شماری کروا کر سندھ کا سودا کررہی ہے۔ہر صورت میں مردم شماری کو ملتوی ہونا چاہیے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر مردم شماری ہونی چاہیے، اس مردم شماری کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا، چار مارچ سے بیس مارچ تک کراچی پریس کلب کے سامنے مستقل احتجاجی کیمپ قائم کیاجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے تمام ڈویژن میں ہر ضلعی ہیڈکوارٹرز میں مظاہرے بھی کئے جائیں گے، عوام اس جدوجہد میں بھرپور حصہ لے کر سندھ کے خلاف سازش کو ناکام بنائیں، کراچی کی آبادی کو تین کروڑ سے زائد دکھانا چاہتے ہیں، پانچ سال قبل آبادی ڈیڑھ کروڑ تھی، یہ شہروں سے سندھی سیاست کا عمل دخل ختم کرنا چاہتے ہیں۔
