بھارہ کہو مدرسہ میں بچے سے زیادتی کا کیس، اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، کیس کی درست تفتیش نہ کرنے پر عدالت کا تفتیشی پر برہمی کا اظہار کیا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ استاد، قاری یا جو بھی ہو آپ نے قانون کے مطابق کارروائی کرنا ضروری ہے، اگر بچے کے حوالے سے مدعی نے بتانا ہے تو پولیس کیا کررہی ہے۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو بتائیں آپ نے کیا تفتیش کی، تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ میڈیکل رپورٹ میں بچے کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیوں نہ آپ کے خلاف تادیبی کارروائی کی ہدایت کی جائے، عدالت نے سرکاری وکیل ملک اویس حیدر کو ایف آئی آر پڑھنے کی ہدایت کی جس پر اُس نے سب کو آگاہ کیا کہ مذکورہ واقعہ 28 اگست کو بھارہ کہوں مدرسہ تحفیظ القرآن میں پیش آیا۔
ایف آئی آر کے متن میں لکھا گیا کہ مدرسہ تحفیظ القرآن کے قاری ارشد کو بروقت بچے کے والدین نے بتایا لیکن اس نے کوئی کاروائی نہیں کی، مدرسہ میں پڑھنے والا 17 سالہ ملزم زیشان نے ضمانت بعد ازگرفتاری کی درخواست دائر کررکھی ہے۔
