ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے ملزمان کا چیف جسٹس کو کھلا سوال نامہ

اسلام آباد: ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں زیر حراست ملزمان نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کو خط لکھ کر انصاف مانگ لیا۔

ملزمان نے اپنے خط میں چیف جسٹس کو فخر بلوچ لکھتے ہوئے چند سوالات کیے اور بتایا کہ انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ پر اعتبار نہیں لہذا فوری انصاف فراہم کیا جائے۔

خط میں سوال کیا گیا ہے کہ ’’کیا لندن میں سن 2010 میں قتل ہونے والے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کا پاکستان میں مقدمہ ختم ہوگا اور اگر ہوا تو اس میں مزید کتنا وقت لگے گا‘‘۔

ملزمان کے دستخط سے بھیجے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ انہیں جسٹس اطہر من اللہ پر اعتماد نہیں کیونکہ وہ 12 مئی کیس میں براہ راست بطور افتخار چوہدری کے ترجمان ملوث تھے۔

معظم علی خان، خالد شمیم اور محسن علی نے اپیل کی کیا ڈاکٹر عمران فاروق قتل کا مقدمہ غیر جانبدار دیکھ سکتے ہیں۔ زیر حراست تینوں ملزمان نے اپیل کی کہ براہ مہربانی مقدمے کا فیصلہ سنایا جائے یا پھر تینوں کو ضمانت پر قید سے رہا کیا جائے۔